30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ پَر تو وہیں آکر گرے کہ ہوا کی حرکتِ عرضیہ کا پورا اثر لے گا اور پتھر وہاں نہ آئے مغرب کو گرے کہ ہوا پورا ساتھ نہ دے گا حالانکہ اس کا عکس ہے،پتھر وہیں آتا ہے اور پَر بدل بھی جاتا ہے۔
مخالف کی طرف سے علامہ عبدالعلی نے شرح مجسطی میں اس کے تین جوابات نقل کیے۔
(۱)مشایعت فرض کرکے مشایعت سے انکار عجیب ہے:مشایعت عــــــہ ہوا کی فرض کی ہے نہ کہ پتھر کی،اعتراض عجیب ہے۔ (۲)شرح مجسطی میں کہا یوں جواب ہوسکتا ہے۔
|
عــــــہ:فی شرح حکمۃ العین لا مشایعۃ ھٰھنا والا لما وقع الحجران [1] الخ،وفی شرح المجسطی قال صاحب التحفۃ لو تحرك الھواء بمثل تلك الحرکۃ الزم ان لایقع الحجران [2] الخ۔اقول:وھذا الکلام یحتمل ان یکون ابطالا لمشایعۃ الھواء للارض انہ لویشا یعھا لزم الخلف وح یرد علیہ ا لا یراد الاول لاشك ویحتمل ان یکون انکارًا لمشایعۃ الحجرللھوا ء بعد تسلیم مشایعۃ الہواء ای لئن شایعھا الھواء لایشایعہ الحجر وح لاورودلہ وعلی الاول حملہ العلامۃ الخضری حیث قال ما قال صاحب التحفۃ فی ابطال مشایعۃ الھواء للارض انہ لوکان مشایعتھا لھا لما دقع الحجران [3] الخ۔وحملہ علی الثانی وھو الصواب فان اختلاف الاثر فی الحجرین انما بقدح فی مشایعتہا للھواء۔ |
شرح حکمۃ العین میں ہے کہ یہاں کوئی مشایعت نہیں ورنہ دونوں پتھر نہ گرتے الخ۔شرح مجسطی میں ہے صاحبِ تحفہ نے کہا کہ اگر ہوا اس کی حرکت کی مثل حرکت کرتی تو لازم آتا کہ دونوں پتھر نہ گریں الخ۔میں کہتا ہوں یہ کلام زمین کے لیے ہوا کی مشایعت کے ابطال کا احتمال رکھتا ہے کہ اگر ہوا اس کی مشایع ہوتی تو خلف لازم آتا۔اس صورت میں اس پر بلاشك اعتراض اوّل وارد ہوگا۔اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ کلام مشایعت ہوا کوتسلیم کرنے کے بعد ہوا کے لیے پتھر کی مشایعت کے انکار کے لیے ہو یعنی اگر ہوا زمین کے مشایع ہے تو پتھر ہوا کے مشائع نہ ہوگا۔اس صورت میں کوئی اعتراض وارد نہ ہوگا۔علامہ خضری نے اس کو احتمالِ اول پر محمول کیا کیونکہ اس نے فرمایا:صاحبِ تحفہ نے زمین کے لیے مشایعتِ ہوا کے ابطال سے متعلق جو کہا ہے کہ اگر ہوا زمین کے مشائع ہوتی تو دونوں پتھر نہ گرتے۔الخ اور اس نے اسے احتمال ثانی پر محمول کیا ہے اور یہی درست ہے کیونکہ دونوں پتھروں میں اختلاف اثر ہوا کے لیے ان دونوں کی مشایعت میں قدح کی وجہ سے ہے۔(ت)یہ جواب فاضل خضری نے شرح تذکرہ میں دیا ہے اور جو نپوری نے اسے برقرار رکھا ۱۲ منہ غفرلہ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع