30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ساتھ قائم ہی نہیں دوسرے کے علاقہ سے اس کی طرف منسوب ہوتا ہے۔
وثانیًا اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ت)ہماری رائے میں حق یہ ہے کہ حرکتِ وضعیہ میں عرضیہ کی کوئی تصویر پایہ ثبوت تك نہ پہنچی۔جب تك مابا العرض مابالذات کے ثخن میں ایسا نہ ہو کہ اس کی حرکتِ وضعیہ سے اس کا این موہوم بدلے،این موہوم سے یہاں ہماری مراد وہ فضا ہے کہ مابالذات کو محیط ہے۔ظاہر ہے کہ حامل کو جو فضا حاوی ہے تصویر کے ثخن حامل میں ہے،اس فضا کے ایك حصے میں ہے جب حامل حرکت و ضعیہ کرے گا ضرار تدویر اُس حصہ فضا سے دوسرے حصے میں آئے گی تو اگرچہ خود ساکن محض ہو ضرور اس کی حرکت وضعیہ سے اس کی وضع بدلے گی کہ این موہوم بدلا اگرچہ این محقق برقرار ہے بخلاف حامل یا خارج المرکز کہ اگر دونوں متمم کو ایك جسم مانیں تو یہ اس کے ثخن میں ضرار ہے مگر ان کی گردش سے اس کا این موہوم نہ بدلے گا تو ان کی حرکت سے یہ متحرك بالغرض نہ ہوگا۔
جونپوری کے شمس بازغہ میں زعم[1]کہ اگر یہ اس کے ساتھ نہ پھرے تو اُسے حرکت سے روك دے گا۔
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) لایتحرك ھو بنفسہ و مثلہ بما مرمن الافلاك ان کان النفی منصبا علی القید کان حرکۃ المفتاح بحرکۃ الید وکل حرکۃ قسریۃ بل وارادیۃ داخلۃ فی الحرکۃ العرضیۃ وھو کما ترٰی وان انصب علٰی نفس المقید لاقید نفسہ صح ولم یصح جعل حرکۃ الا فلاك منہ بل ھی ان کانت فقسریۃ وھم انما یھربون عنھا الی ادعاء العرضیۃ لا نہ لا قاسر عندھم فی الافلاك ۱۲ منہ۔ |
میں کہتا ہوں:اس جگہ سے ظاہر ہوگیا کہ حرکت عرضیہ کی قسمیں بیان کرتے ہوئے ہدیہ سعیدیہ(ص ۵۱)میں جو کہا ہے:لکن لا یتحرك ھو بنفسہ(کسی مقولے میں حرکت عرضیہ کا موصوف اس لائق ہے کہ اس مقولے میں حرکت سے متصف ہو لیکن وہ خود متحرك نہیں ہوتا)اور اس سے پہلے اس کی مثال افلاك سے دی ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ نفی کسی پر وارد ہے؟(۱)اگر قیدپروارد ہے(تو معنی یہ ہو کہ وہ موصوف حرکت تو کرتا ہے،لیکن بنفسہ حرکت نہیں کرتا)تو ہاتھ کی حرکت سے چابی کی حرکت اور ہر قسری حرکت بلکہ حرکت ارادیہ بھی حرکت عرضیہ میں داخل ہوگی اور یہ باطل ہے جس طرح آپ دیکھ رہے ہیں اور اگر(۲)نفی مقید پرواد ہے نہ کہ فی نفسہ کی قید پر تو یہ صحیح ہے،لیکن افلاك کی حرکت کو اس قبیلے سے قرار دینا صحیح نہیں ہوگا بلکہ اگر یہ حرکت موجود ہوئی تو قسری ہوگی اور فلاسفہ اسی حرکت کو اس قبیلے سے قرار دینا صحیح نہیں ہوگا بلکہ اگر یہ حرکت موجود ہوئی تو قسری ہوگی اور فلاسفر اسی حرکت قسریہ سے بھاگتے ہیں اور حرکت کے عرضی ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں،کیونکہ ان کے نزدیك افلاك میں کوئی قاسر نہیں ہے۔ (ترجمہ)محمد عبدالحکیم شرف قادری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع