30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں۔حرکتِ عرضیہ میں متحرك بالغرض خود ساکن ہوتا ہے دوسرے کی حرکت اس کی طرف منسوب ہوتی ہے جیسے جالس سفینہ بلکہ بند گاڑی میں بھرا غلہ،اور یہاں یہ افلاك و اجزاء خود اسی حرکت یومیہ سے متحرك ہیں اگرچہ انکے تحرك کا باعث فلك الافلاك کا تحرك ہو۔فلك البروج اگر منتقل نہ ہوں تو کواکب و درجات بروج کا طلوع و غروب کیونکر ہوتا تو یقینًا انتقال ان عـــــہ۱ کے ساتھ بھی قائم ہے اگر چہ اس کے حصول میں دوسرا واسطہ ہوتا تو یہ حرکت ذاتیہ بذریعہ واسطہ ہوئی،جیسے ہاتھ کی جنبش سے کنجی کی گردش،نہ کہ عرضیہ جس میں عــــــہ۲ انتقا ل اس کے
عــــــہ۱: خود ہدیہ سعیدیہ میں ہے:
|
وفی الحرکۃ الوضعیۃ کا لکرۃ المحویۃ الملتصقۃ بکرۃ حاویۃ متحرکۃ علی الاستدارۃ اذا کان بین الکرتین علاقۃ التصاق تو جب حرکۃ احدٰھما بحرکۃ الاخرٰی ومن ھٰذا القبیل اتصاف الافلاك المحویۃ بالحرکۃ الیومیۃ التی ھی حرکۃ الفلك الاطلس بالذات [1]۔ا ھ ۱۲۔ |
حرکت عرضیہ کی پہلی قسم کی مثال حرکت وضعیہ میں یوں سمجھیں کہ ایك کرہ محوی ہو اور ایك کرہ حاوی ہو،اور حاوی کرُہ حرکتِ مستدیرہ کررہا ہو،ان کے درمیان ایسا کنکشن ہو کہ ایك حرکت کرے تو دوسرا لازمًا حرکت کرے۔(دوسرے کُرہ کی حرکت عرضیہ ہوگی)جن افلاك کا احاطہ کیا گیا ان کا حرکت یومیہ کے ساتھ متصف ہونا اسی قبیلے سے ہے،حرکتِ یومیہ وہ فلك اطلس کی حرکت بالذات ہے ا ھ ۱۲(ت) |
عــــــہ۲: خود ہدیہ سعیدہ میں ہے:
|
مایوصف بالحرکۃ اما ان یکون الانتقال قائما بغیرہ و ینسب الیہ لاجل علاقۃ لہ مع ذلك الغیر فحرکۃ عرضیۃ [2]اھ۔اقول:من ھٰھنا ظھر ان فی قول الھدیۃ السعیدیۃ فی بیان انحاء الحرکۃ العرضیۃ لکن |
جو چیز حرکت کے ساتھ موصوف ہے(اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ)انتقال کسی دوسری چیز کے ساتھ قائم ہے لیکن انتقال کی نسبت پہلی چیز کی طرف اس لیے کی جاتی ہے کہ اس کا تعلق اس غیر کے ساتھ ہے تو یہ حرکت عرضیہ ہے۔ (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع