30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منطقہ ہ رہے تو جہاں جاذبیت کم ہے وہاں نافریت زائد ہے اور جہاں زائد ہے وہاں کم،اور یہ باطل ہے،لاجرم حرکتِ زمین باطل ہے،یوں ہی طلب نورو حرارت کے لیے ا ب کے نیچے جو اجزاء ہیں وہ آگے بڑھتے اور اپنے اگلے اجزاء کو بڑھاتے اور حرکتِ منطقہ ح ء پر پیدا ہوتی نہ ح ط ؔ کے نیچے جو اجزاء نور و حرارت پارہے ہیں وہ آگے بڑھتی اور حرکت منطقہ ہ ر پر ہوتی۔
دلیل ۸۶:اقول:حرکت و ضعیہ میں قطب سے قطب تك تمام اجزاء محور ساکن ہوتے ہیں اور ہم نمبر ۳۳ میں ثابت کر آئے ہیں کہ زمین کی یہ حرکت اگر ہے تو ہر گز تمام کُرے کی حرکت واحد نہیں،جس کے لیے قطبین و محور ہوں جب کہ ہر جز کی جدا حرکت اینیہ ہے کہ ہر جز میں نافریت اور طلبِ نور و حرارت ہے تو اجزاء محورکا سکون بے معنی نہ کہ وہ بھی خط ح طؔ پر جہاں جاذبیت ہے نہ قوت اور اس کے بعد تك مقابلہ باقی ہے تو بُطلان حرکت زمین میں کوئی شبہ نہیں۔
دلیل ۸۷:اقول:ہماری تقریر ۳۳ سے واضہ کہ اجزاء زمین میں تدافع ہے۔
اولًا:اجزاء کی حرکت اینیہ میں اور ہر اینیہ میں قوت دفع ہے کہ وہ مکان بدلتی ہے جو اس کی راہ میں پڑے اُسے ہٹاتی ہے۔
ثانیًا:یہاں اسی قدر نہیں بلکہ اجزاء کی چال مضطرب ہے تو تدافع نہیں تلاطم ہے۔حرکت محوری اگرجاذبیت و نافریت سے ہو جس طرح ہم نے نمبر ۳۳ میں تقریر کی جب تو ظاہر کہ قرب مختلف تو جذب مختلف تو نافریت مختلف تو چال مختلف تو اضطراب حاصل ورنہ اس کی کوئی بھی وجہ ہو۔بہرحال اصول ہیئت جدیدہ پر یہ احکام یقینًا ثابت کہ:
(۱)بعض اجزاء ارض کا مقابل شمس اور بعض کا حجاب میں ہونا قطعی۔
(۲)مقابلہ زمین قُرب و بعُد اور خطوط واصلہ کا عمود منحرف ہونے کا اختلاف یقینی۔
(۳)ان اختلافات سے جاذبیت میں اختلاف ضروری۔
(۴)اس کے اختلاف سے نافر یت میں کمی بیشی لازمی۔
(۵)اُس کی کمی بیشی سے چال میں تفاوت حتمی۔
(۶)اس تفاوت سے اجزاء میں تلاطم و اضطراب ان میں سے کسی مقدمہ کا انکار ممکن نہیں تو حکم متیقن تو واجب کہ معاذ اﷲ زمین میں ہر وقت حالت زلزلہ رہے،ہر شخص اپنے پاؤں کے نیچے اجزاء زمین کو سرکتا تلاطم کرتا پائے اور آدمی کا زمین کے ساتھ حرکت عرضیہ کرنا اس احساس کا مانع نہیں،جیسے ریل میں بیٹھنے سے حال محسوس ہوتی ہے خصوصًا پرانی گاڑی میں لیکن بحمد اﷲ تعالٰی ایسا نہیں تو حرکت محوری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع