30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوں گے اور تحت حقیقی ایك نقطہ ہی رہے گا۔
(۹)یہ نقطہ متعینہ جس کے جمیع جہات سے وسط جملہ امتدادات ہونے نے اُسے مرکز کُرہ بنایا،ضرور ہے کہ کسی کُرہ موجود کا مرکز ہو جو بالذات تحت ہونے کے لیے متعین ہو نہ یہ کہ کسی اعتبار و اصطلاح پر ہو ورنہ نسبت واقعیہ نہ رہے گی،فضائے خالی میں کوئی نقطہ اصلًا تمیز ہی نہیں رکھتا۔ہمارے اعتبار سی متمیز ہوگا نہ کہ تحت ہونے کے لیے بالذات متعین۔
(۱۰)ضرور ہے کہ اِس مرکز کو حرکت اینیہ سے ممکن کہ وہ مرکز فوق کے قریب آجائے اور تحت سے بعید ہوجائے تو باوصف اپنی اپنی جگہ ثابت رہنے کے لیے فوق تحت ہوجائے اور تحت فوق اور اسے کوئی عاقل قبول نہ کرے گا۔مثلًا ایك مکان کسی دوسرے مقام پر ہے جس کا صحن اُس تحت ذاتی سے قریب ہے اور سقف دور۔اب وہ مرکز متحرك ہو کر اوپر آجائے تو چھت اس سے قریب ہوجائے گی اور صحن دور،اب کہنا پڑے گا کہ بیٹھے بٹھائے سیدھے مکان کی چھت نیچے ہوگئی اور صحن اوپر،یوں ہی وہاں جو آدمی کھڑا ہوا بیچارہ بدستور کھڑا ہے مگر سر نیچے ہوگیا اور ٹانگیں اوپر،جب یہ مقدمات ممہد ہولیے،اب ہم دیکھتے ہیں کہ جب تم زمین پر سیدھے کھڑے ہو تمہارے سر کی جانب جہت فوق تا دور چلی گئی ہے تو بحکم مقدمہ ششم ضرور ہے کہ پاؤں کی جانب جہت تحت کسی حد کی جانب منتہی ہوجائے اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ اس کُرہ زمین میں ہے یا اس کے بعد لیکن بداہۃً معلوم اور ہر عاقل کو معقول کہ جس طرح تم اس طرف زمین کے اوپر ہواور تمہارا سر اونچا پاؤں نیچے یونہی امریکہ میں یا تمام سطح زمین میں کسی جگہ کوئی کھڑا ہو اس کی بھی یہی حالت ہوگی۔امریکہ والوں کو یہ نہ کہاجائے گا وہ زمین پر نہیں،بلکہ زمین اوپر ہے یا ان کا سر اوپر نہیں بلکہ ٹانگیں اوپر ہیں تو روشن ہوا کہ وہ حد زمین ہی کے اندر ہے اور اس کا مرکز تحت حقیقی ہے تو بحکم مقدمہ عاشرہ کُرہ زمین ساکن ہو اور اس کی حرکت اینیہ باطل۔
دلیل ۸۱:اقول:وہ کُرہ موجود جس کا مرکز تحت حقیقی ہے،فلك ہے یا شمس،یا ارض،یا اور کوئی سیاہ یا ثابتہ یا قمر۔
اول:تو ہیئت جدیدمان نہیں سکتی کہ وہ وجود افلاك ہی کے قائل نہیں۔
دوم:ضرور اُس کا مدعا ہے کہ شمس کو ساکن فی الوسط مانتی ہے،ضرور کہ اہلِ ہیئت جدیدہ جب دوپہر کو زمین پر سیدھے کھڑے ہوں تو سَر نیچے ہو اور ٹانگیں اوپر،اس لیے کہ سر تخت حقیقی سے قریب ہے اور پاؤں دور،جب زمین کی حرکت مستدیر قریب غروب اس حالت پرلائے کہ سر اور پاؤں کا فعل مرکز شمس سے برابر رہ جائے تو اب نہ سر اوپر نہ پاؤں،ہاں آدھی رات کو آدمیت پر آئیں کہ سر اوپر ہوجائے کہ تحت سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع