30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں کسی طرف تحدید ضرور نہیں کہ وہ تابع اعتبار ہیں۔فوق و تحت نسبت واقعیہ سے ہیں تو ضرور ان میں تو ایك جانب تحدید ضرور ہے ورنہ اعتبار محض رہ جائیں گے ہر تحت سے تحت اور ہر فوق سے فوق متصور،تو کسی کا کوئی منشا ء متعین نہیں،جسے چاہو تحت فرض کرلو،تو مابقی سب فوق ٹھہریں گے پھر فوق کو تخت فرض کرو تو یہ سب فوق ہوجائے گا اور وہ فوق تحت لاجرم ان کی تحدید میں تین صورتوں سے ایك لازم یا تو دو متقابل چیزیں یا بالذات فوق وتحت ہوں کہ نہ فوق بالذات سے اوپر ممکن ہے نہ تحت بالذات سے نیچے،باقی اشیا کہ اُن کے اندر ہیں،جو فوق سے قریب ہو فوق بالعرض ہے جو تحت سے قریب ہو۔تحت بالعرض ہے،اور ان میں ہر شے دو چیز اقرب وابعد کے لحاظ سے فوق و تحت دونوں،یہ صورت دونوں طرف تحدید کی ہوگی یا فوق بالذات متعین ہو کہ اس سے تفوق محال اور اس کے مقابل غیر محدود جتنے چلے جاؤ سب تحت ہے اور ہر اسفل سے اسفل تك ممکن یا تحت بالذات متعین ہو کہ اس سے تفسل ممتنع اور اس سے محاذی یا متنائی جتنے بڑھوسب فوق ہے اور ہر بالا سے بالا تر متصور تینوں صورتیں اپنی ذات میں تحت وفوق کے نسبت واقعہ ہونے کو بس ہیں۔
(۷)اب تمام عقلائے عالم کے اتفاق سے تحت محدود ہے،فوق کی تحدید کہ ہر ایك شے پر جا کر فوقیت منتہی ہوجائے اور اس سے فوق ناممکن ہو،بالضرورت واقعیت ہو نہیں سکتی کہ وہ تو حاصل ہوچکی اور خارج سے اس پر کوئی دلیل نہیں۔تو اس کا ماننا جزاف ہے۔
فلسفہ قدیمہ کا رد بعونہ تعالٰی تدنیل جلیل میں آتا ہے۔یہاں اس کی حاجت نہیں،اور ہیئت جدیدہ کا اتفاق ہے کہ فوق محدود نہیں۔مسئلہ تناہی ابعد ہم پروارد نہیں کہ ہمارے نزدیك فضائے خالی بعد موہوم ہے کہ انقطاع وہم سے منقطع ہوجائے گا جب پھر تو ہم کرو گے اور آگے بڑھے گا اور کسی حد پر منتہی نہ ہوگا کہ اس کے اوپر متوہم نہ ہوسکے تو شق ثالث متعین ہوئی یعنی تحت بالذات متعین ہے اس کے سوا کوئی تحت اس سے جو قریب ہے وہ تحت اضافی ہے،جو بعید ہے وہ فوق تاغیر نہایت ہے۔
۰۰۰۰۰کہ تحت کے سب اطراف یکساں ہیں،ایك کو دوسرے پر ترجیح نہیں کہ ایك طرف بعد زائد دوسری طرف کم بلکہ جو سب طرف لامتناہی ہے سب طرف برابر ہے کہ دو نامنتہی کہ ایك مبدء سے شروع ہوں اور امتداد میں کم و بیش نہیں ہوسکتے۔ورنہ جو کم رہا متناہی ہوگیا تو لازم کہ تحت حقیقی تمام امتدادوں کی وسعت میں ایك شیئ موجود متعین ہو جس کے ہر طرف فوق ہواور تحت کا اشارہ ہر جانب سے اُسی پر منتہی ہو،امتداد جو آگے بڑھے فوق کی طرف چلے۔
(۸)یہیں سے ظاہر ہے کہ تحت بالذات کا ایك نقطہ غیر متجزیہ ہونا لازم و رنہ جسم یا سطح یا خط میں نقاط کثیرہ فرض ہوسکتے ہیں جن کی طرف اشارہ حِسّیہ جُدا جدا ہوگا اور ایك دوسرے سے بعید تر ہوگا تو خود ان میں فوق وتحت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع