30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وعملیات سب پر خاك ڈال کر یہیں کا یہیں مدار زمین کے برابر ایك دائرہ موازی خطِ استوا لے کر اس کا نام معدل رکھ لو،اور اب میل کا حساب راست آئے گا۔تمام عقلائے عالم ہیئتِ جدیدہ کا اجماع ہے کہ میل کلی ہزاروں برس سے ۲۳،۲۴ درجے کے اندر ہے،(۲۹،۲۳)لیکن زمین دورہ کرتی ہے تو اب میل کلی پورا ۶۰ درجے آئے گا اور متساوی دائرے کہ ہر ایك دوسرے کے مرکز پر گزرا ہو(مقدمہ۱)اُن کا بعد ہمیشہ ان کے نصف قطر کے برابر ہوگا۔

ا ح ب مرکزہ پر اور ح ا ب مرکز ر پر تو ح ہ یا ر ء بعد ہے کہ ہر ایك نصف قطرہے،یہ سطح مستوی میں تھا جس میں نصف قطر یعنی ۶۰ درجہ قطریہ کی قیمت درجات محیطیہ سے ۷۵ ردجے،۱۷ دقیقے،ثانیے،۴۸ ثالثے،اور ۱۵ رابعے ہیں،
لیکن کُرے پر بُعد دائرے سے لیا جاتا ہے تو ان کا مساوی دائرہ میلیہ کا نقطتین ح ہ یا ر ءؔ پرگزرے گا یہ نصف قطر اس کا وتر ہوگا تو دائرۃ البروج کا میل ۲۳،۲۴ کی جگہ کامل ۶۰ درجے آئے گا اور یہ سب کے نزدیك باطل،تو دورہ زمین قطعًا وہم باطل۔
دلیل ۷۹:اقول،جتنے مسائل کرہ سماوی پر بذریعہ علم مثلث کروی حل کیے جاتے ہیں جن کے مثلث میں ایك قوس دائرۃ البروج کی ہو،خصوصًا جب کہ دوسری قوس معدل کی ہو،جیسے کو کب عــــــہ کے میل و مطالع قمر سے اس کے
عــــــہ:خاص اس مسئلہ میں ہمارا ایك رسالہ ہے البرھان القویم علی الارض والتقویم،جس میں اٹھارہ صورتیں قائم کرکے اُنہیں ۶ کی طرف راجع کیا،پھر ہر ایك میں جتنی شقیں متحمل ہیں جن کا مجموعہ ۳۵ ہے سب کو سب کی اور اُن پر تو امرات بیان کیے کہ ہر صورت میں کیونکر میل الطالع سے تقویم و عرض نکالیں دونوں کے جدا جدا نکالنے کے بھی طریقے بتائیے پھر تقویم سے عرض اور عرض سے تقویم معلوم کرنے کے پھر جملہ طاق پر براہین ہندسیہ شکل شمس وظلی سے قائم کیں۔یہ سب بیان تو اس رسالہ پر محمول۔
اصول علم الہیئت ۹۷ میں بھی چند سطر کے اس توامر کے ذکر میں لکھیں جن میں عجب خطائے فاحش کی شکل یہ بنائی۔

ی ق خط استوا یعنی(معدل الہنار فؔ)اس کا قطب،ی سؔ دائرۃ البروج،ر ا س کا قطب،ص موضع کوکب،ف ص یعنی(میلیہ)اور رص یعنی (عرضیہ)بنائے ف ص پر ب ص عمود گرایا۔ف ص تمام میل ہے اور رف یعنی مابین القطبین۔(باقی برصفحہ آئندہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع