30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

جب زمین نطقہ ب پر آئی معدل دائرہ عہؔ ہوا اور حؔ راس الحمل،طؔ راس المیزان جب زمین ح پر آئی معدل دائرہ ف ہوا اور ی راس الحمل ك ر اس المیزان جب ء پر آئی معدل صہ ؔ ہوا اور ل راس الحمل م راس المیزان،ان چاروں دائروں نے منطقہ کو بارہ مساوی حصوں پر تقسیم کیا۔مثلًا منطقہ کی قوس اب ربع دور ہے اور بحکم مقدمہ ثانیہ تقاطع رائرہ عہ سے قوس ا ہ ۶۰ درجے تو ب ہ ۳۰ درجے،یوں ہی تقاطع دائرہ عہؔ سے ب ط ۶۰ درجے تو اط ۳۰ درجے لاجرم بیچ میں ہ ط بھی ۳۰ درجے،اسی طرح ہر رابع، میں پس بالضرورۃ چاروں بار کے راس الحمل ہ ح ی ل میں ۹۰،۹۰ درجے کا فاصلہ تو ہر سال راس الحمل تمام منطقہ پر دورہ کر آیا اور ہر سہ ماہی میں تین بُرج چلا ہر روز ایك درجہ بڑھ کر اس سے جہالت اور کیا ہوگی تو دورہ زمین قطعًا باطل۔
دلیل ۷۰:اقول:تمام عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ اس مدار پر دورہ کرنے والا(شمس ہو یا زمین)سال بھر میں تمام بروج میں ہو آتا ہے لیکن اگر یہ مدار زمین کا ہے تو ایك برج کیا ایك درجہ کیا ایك دقیق چال چلنا محال۔جب زمین آ پر تھی راس الحمل ہ تھا تو آ کہ ۶۰ ہی درجے آگے ہے تو ضرور بٓ راس الدلو ہے،یونہی زمین جہاں ہوگی راس الحمل اس سے ۶۰ درجے آگے رہے گا اور زمین ہمیشہ راس الدلوہی پر رہے گی تو بروج میں انتقال نہ ہونا درکنار۔
اوپر تو جاذبیت و نافریت اسباب و زن نے سکونِ زمین ثابت کیا تھا،یہاں خود دورہ زمین نے سکونِ زمین مبرہن کردیا۔ثابت ہوا کہ ابتدائے آفرنیش میں جہاں تھی وہیں اب بھی ہے اور جب تك باقی ہے وہیں رہے گی۔اس سے زیادہ قاہر دلیل اور کیا ہوگی کہ دورہ ماننا ہی ساکن منوا چھوڑے۔اہلِ ہیئت جدیدہ تقلید کوپرنیکس کے نشے میں ان عظیم خرابیوں سے غافل رہے تو رہے عجب کہ آج تك ان کے رَد کرنے والوں کو بھی یہ آفتاب سے زیادہ روشن دلائل خیال میں نہ آئے دور کی باتیں بلکہ دور از کار باتیںبھی لکھا کیے فریقین کا اس طرف خیال ہی نہ گیا کہ منطقہ کو مدار زمین مانتے ہی تمام ہیئت کا پٹا اُلٹ جائے گا۔
دلیل ۷۱:اقول:جب ہ راس الحمل اور زمین طؔ راس الدلو پر ہے تو ضرور طؔ راس الحوت ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع