30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہر گز جذب نہیں کرتا تو زمین بھی جذب نہیں کرتی کہ طبیعت متحد ہے۔فافھم۔
ردپنجا ہم:زمین نافریت کرکے بچ جاتی ہے۔یہ حقیر چیزیں تو نہ بچ سکتیں۔اگر کہیے آفتاب ضرور ان کو جذب کرتا ہے مگر زمین بھی تو کھینچتی ہے اور یہ اس سے متصل اور آفتاب سے کروڑوں میل دور، لہذا جذب زمین غالب آتا اور آفتاب انہیں نہیں اٹھا سکتا۔ہم کہیں گے زمین کا اپنے اجزاء کو جذب ثابت ہے دیکھو ابھی دو دلیل سابق(مفتاح الرصد)۔
تذییل:کلام قدماء میں ایك اور دلیل مذکور کہ جذب عــــــہ ہوتا تو چھوٹا پتھر جلدآتا(شرح تذکرہ بطوسی للعلامہ الخضری)یعنی ظاہر ہے کہ جاذب کاجذب اضعف پر اقوی ہوگا تو چھوٹا پتھر جلد کھینچے حالانکہ عکس ہے اس سے ظاہر کہ وہ اپنی میل طبعی سے گرتے ہیں جو بڑے میں زائد ہیں۔
اقول:اضعف پر اقوٰی ہونا مساوی قوتو ں میں ہے اور یہاں چھوٹے کا جاذب بھی چھوٹا ہے تو اتنے ضمیمہ کی حاجت ہے کہ دونوں کی سطح مواجہہ زمین مساوی ہو۔اب حق حقیقت پر یہ بعینہ رد چوالیس ۴۴ ہوگا۔اور اس فرض باطل پر اتنا بھی کافی نہ ہوگا کہ چھوٹا اب بھی جلد نہ آئے گا بلکہ برابر، کمامر، اب یہ صورت لینی ہوگی کہ بڑا ارتفاع ہیں ہزار گنا اور سطح مواجہہ میں مثلًا آدھا ہے۔اب یہ اعتراض پورا ہوگا کہ چھوٹے کا جاذب ہے۔فرض کرو بڑے میں دس حصے مادہ ہے اور چھوٹے میں ایك حصہ، اگر سطح مواجہہ برابر ہوتی دونوں دس دس سیر وزن ہوتا جس کی تقریر گزری، لیکن چھوٹے کی سطح مواجہہ دو چند ہے تو بڑے میں دس سیر وزن ہوگا اور چھوٹے میں بیس سیر، لہذا اسی کا جلد آنا لازم، حالانکہ قطعًا اس کا نصف ہے تو جاذبیت باطل و جزاف ہے اور میل طبعی کا میدان ہموار صاف ہے، واﷲ سبحانہ و تعالٰی اعلم۔
عــــــہ:یہ نو ٹ الرضا نمبر سے لکھا جائے جس میں ایك نواب صاحب سے مکالمہ ہے الرضا کا یہ مقالہ مل نہ سکا۔عبدالنعیم عزیزی۔
__________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع