30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردّچہل و ہفتم:اقول:تو اس تیسری لکڑی کا ڈوب کر اچھلنا کیوں؟ اس میں خود اوپر آنے کی میل نہیں(۲)ورنہ لکڑیاں اڑتی پھرتیں نہ یہ زمین کا دفع ہے کہ وہ تو جذب کررہی ہے نہ کسی کوکب کا جذب کہ وہ ہوتا تو جب اس سے قریب اور زمین سے دور تھی اور اس وقت گرنے نہ دیتا نہ کہ اسی وقت خاموش بیٹھا رہا جب زمین کھینچ کر اسے نصف آب تك لے گئی اور جاذبیت ارض بوجہ قرب زیادہ ہوگئی اس وقت جاگا اور اپنی مغلوب جاذبیت سے اوپر لے گیا اور ایسا ہی تھا تو پہلی لکڑی اوپرکیوں نہیں اٹھالیتا۔پانی کے چیرنے سے ہوا کا چیرناآسان ہے، غرض کہ کوئی صورت نہیں سوا اس کے کہ پانی نے اسے اچھالا اور اپنے محل سے واقع کرکے اوپر لاڈالا۔پانی نہ ہوتا تو زمین تینوں کو کھینچ کر اپنے سے ملالیتی۔اب سوال یہ ہے کہ پانی بھی تو زمین ہی کا جز ہے(۱۸)تو وہ بھی جاذب ہوتا نہ کہ دافع، اگر کہئے یہ دافع صدمہ کا جواب ہے، جسم کا قاعدہ ہے کہ دوسرا جسم جب اس سے مقاومت کرتا ہے یہ اس کو اتنی ہی طاقت سے دفع کرتا ہے جتنے زور کا صدمہ تھا۔یہ دفع زمین میں بھی ہے۔گیند جتنے زور سے اُس پر مارو اتنے ہی زور سے اوپر اٹھے گی۔
اقول اولًا:صدمہ کا خاتمہ اُوپر ہوچکا کہ حق حقیقت پر بالعکس ہونا تھا اور فرض باطل پہ مساوی، اور یہ کہ اس کا ماننا میل طبعی پر ایمان لانا اور جاذبیت کو رخصت کرنا ہے اور جب صدمہ نہیں جواب کا ہے کا۔
ثانیًا: دوسری لکڑی نے تو اتنا صدمہ دیا کہ تہ تك شق کرگئی اتنی ہی قوت سے اسے کیوں نہ دفع کیا۔
ثالثًا: پانی جوابًا دفع چاہتا اور زمین جذب کررہی ہے، یہ پانی اس کی کیا مزاحمت کرسکتا نہ کہ اس پر غالب آجائے اُس سے چھین کر اوپر لے جائے۔
رابعًا: پانی کو صدمہ تو اس وقت پہنچا جب لکڑی اس کی سطح سے ملی اُس وقت جواب کیوں نہ دیا؟ اگر کہیے پانی لطیف ہے اس وقت تك گرنے والی لکڑی کی طاقت باقی تھی پانی شق کرتا مگر جب اس کی طاقت پوری ہوئی اس وقت پانی نے جواب دیا۔
اقول:لکڑی کی طاقت جذبِ زمین سے ہوتی تو نصف پانی تك جا کر تھك نہ رہتی ضرور جذب نہیں بلکہ لکڑی اپنی طاقت سے آئی جو اس کی ہستی ہے پھر نصف پانی چیر سکی پھر پانی نے پلٹا دیا۔بالجملہ اس سوال کا کوئی جواب نہیں سوا اس کے کہ یہ لکڑی پہلی لکڑی سے بھاری ہے۔اس نے اپنی متوسط قوت سے نصف آب تك مداخلت کی مگر پانی سے ہلکی ہے اور ہر بھاری چیز اسفل سے اپنا اتصال چاہتی ہے۔، اس سے ہلکی چیز اگر پہلے پہنچی ہوتی ہے اور یہ قدرت پائے تو اُسے اوپر پھینك کر خود وہاں مستقر ہوتی ہے جیسے گلاس کے تیل اور پانی کی مثال میں گزرا۔لہذا دوسری لکڑی کو نہ پھینکا کہ وہ پانی سے بھاری تھی اسفل اسی کا محل ہے تو ثابت ہوا کہ ثقیل طالب سفل ہے، اور اثقل طالبِ اسفل، اُسی کا نام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع