30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو زیادہ جھکنا ہی اس کی زیادت ہے۔اور کم جھکنا بھی اس کی کمی نہ کہ عکس کہ بداہۃً باطل ہے۔
ثانیًا: بفرض غلط ایسی بدیہی بات باطل مان لی جائے تو اب بھی ان تینوں نمبروں سے رہائی نہیں، اب نمبر ۴۲ کی یہ تقریر ہوگی کہ کاغذ کا تختہ اور وہ دس ہزار گز ارتفاع والی لوہے کی سل،(تول کانٹے کی)ہموزن ہوں۔
اقول:وجہ یہ کہ جذب اختلاف مادہ مجذوب سے بالقلب بدلے گا یعنی جتنا مادہ زائد جذب کم، کما تقدم، اور وزن جذب سے پیدا ہوتا ہے۔(۵)اور مادہ جسم سے بالا ستقامت بدلے گا یعنی جتنا مادہ زائد وزن زائد، جذب وزن کا سبب ہے۔سبب جتنا ضعیف ہوگا مسبب کم اور مادہ وزن کا محل ہے۔محل جتنا وسیع ہوگا حال زیادہ۔تو بحال اتحاد جاذب پر دو جسم میں وزن برابر رہے گا اگرچہ مادے کتنے ہی مختلف ہوں۔لوہے کی سِل میں بتقاضائے کثرت مادّہ جتنا وزن بڑھنا چاہیے بتقاضائے ضعف جذب اتنا ہی گھٹنا لازم اور کاغذ کے تختے میں بوجہ قلت مادہ جتنا وزن گھٹنا چاہیے بوجہ قوتِ جذب اتنا ہی بڑھنا لازم ہے کہ یہ ضعف وقوت اور وہ کثرت و قلت دونوں بحسب مادہ ہیں۔اسے دو رنگتوں سے سمجھو کہ ایك دوسرے سے دس گناہ گہری ہے گہری میں ایك گز کپڑا ڈبویا اس پر دس گنا رنگ آیا ہلکی میں دس گز کپڑا ڈالا اس پر گہرا رنگ آیا لیکن ہر گز پر ایك حصہ ہے۔تو مجموع پر دس حصے ہوا کہ اول کے برابر ہے۔یونہی فرض کرو ایك حصہ جذب سے ایك حصہ مادہ میں ایك اس پر وزن پیدا ہوتا ہے تو دس حصے جذب سے ایك حصہ مادہ میں دس سیرہوگا اور ایك حصہ جذب سے اور دس حصے مادہ میں بھی دس سیر کہ حصہ جذب سے ہر حصہ مادہ میں ایك سیر ہے تو ایك حصہ مادہ میں دس جذب اور دس حصے مادہ میں ایك جذب سے حاصل دونوں میں دس سیر وزن ہوگا اور نمبر ۴۳ میں یہ کہا جائے گا کہ جس آسانی سے کاغذ کے تختے کو زمین سے اٹھالیتے ہو اس ہزاروں گز ارتفاع والی آہنی سِل کو بھی اسی آسانی سے اٹھا سکو جس طرح وہ سِل ہزار آدمیوں سے ہل بھی نہیں سکتی کاغذ کاتختہ بھی جنبش نہ کھاسکے گا۔کہ دونوں کا وزن برابر ہے اور نمبر ۴۴ میں یہ کہ کاغذ اور وہ آہنی سل دونوں برابر اتریں اور لوازم سب باطل ہیں۔لہذا جاذبیت باطل، غرض یہاں دو نظریے ہوئے ایك حقیقت بربنائے جاذبیت کہ جسم میں جتنامادہ زائد اتنا ہی وزن کم۔دوسرے اس باطل کے فرض پر یہ کہ جب جاذب مساوی ہوں تو سب چھوٹے بڑے اجسام ہموزن ہوں گے اور دونوں صریح باطل ہیں تو جاذبیت باطل،
رَدچہل و پنجم:اقول:مساوی سطح کی تین لکڑیاں بلندی سے تالاب میں گرتی ہیں، ایك روئے آب پررہ جاتی ہے۔دوسری جیسے عود غرقی تہ نشین ہوتی ہے۔تیسری پانی کے نصف عمق تك ڈوب کر پھر اوپر آتی اور تیرتی رہتی ہے۔یہ اختلاف کیوں؟ ا س کا جواب کچھ نہ ہوگا، مگر یہ کہ ان کے مادوں کا اختلاف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع