30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثانیًا: اگر پہاڑ خوردوزنی ہے تو کیا، اس کا اور رائی کے دانے کا اتنا ہی فرق ہے کہ اس کا پلڑا جھکے نہیں، نہیں وہ یقینًا اپنے وزن ہی سے زمین پر پہنچے گا، اور جس طرح وہاں جھکنے میں جذب کا محتاج نہ تھا زمین تك آنے بھی جذب کا محتاج نہ ہوگا۔بلکہ اس کے اپنےذاتی وزن کی نسبت ہے، اسے زمین پر لائے گی تو ثابت ہوا کہ جذب باطل ہے ورنہ رائی کا دانہ پہاڑ سے بھاری ہوا، یہ جاذبیت کی خوبی ہے اور میل لیجئے تو چاہے رائی اور پہاڑ کو آسمانِ ہفتم پر رکھ دیجئے ہمیشہ ان میں وہی نسبت رہے گی جو زمین پر ہے کہ ان کا میل ذاتی نہ بدلے گا۔
رَدِّ بست و دوم:اقول:دونوں ہیأتوں کے اتفاق سے اعتدالین کی مغرب کو حرکت منتظمہ ہے اور ہم نمبر ۲۲ میں دلائل قاطعہ سے روشن کرچکے کہ وہ جاذبیت سے بن سکنا درکنار جاذبیت ہو تو ہر گز منتظمہ نہ رہے گی۔
رَدِّ بست وسوم:اقول:میل کلی ہر سال منتظم روش پر رُوبکمی ہے اسے بھی جاذبیت مختل کردے گی۔(۲۳)
رَدِّبست و چہارم:اقول:جاذبیت ہو تو زمین کے چھلوں کا نظام مختل ہوجائے اور ہر سال قطبین پر زمین زیادہ خالی ہوتی جائے۔
رَدّ بست وپنجم:اقول:تقاطع اعتدالین کا نقطہ تقاطع چھوڑ کر اونچا ہوجائے۔
ردّبست و ششم:اقول:ہر سال قطر استوائی بڑھے۔
ردبست و ہفتم:اقول:زمین
کی یہ شکل ہوجائے یہ سب مطالب نمبر ۲۲ میں واضح ہوئے۔
دلائل نیوٹن ساز جاذبیت گداز:
ردّبست وہشتم:جب ترك اجسام اجزائے ثقیلہ بالطبع سے ہے اور اس کی تصریح خود نیوٹن ساز نے کی(۸)تو قطعًا جسم ثقیل بلاجذب جاذب خود اپنی ذات میں ثقیل ہے اور ثقیل نہیں مگر وہ کہ جانب ثقل جھکنا چاہے دو چیزوں میں جو زیادہ جھکے اسے دوسری سے ثقیل تر کہیں گے۔تو ثابت ہوا کہ یہ اجسام بذات خود بے جذب جاذب ثقل ہے۔اس سے زیادہ میل طبعی کا ثبوت اور جاذبیت کا بطلان کیا درکار ہے جس کا خود مخترع جاذبیت نیوٹن کو اقرار ہے۔
ردّبست و نہم:اقول:ظاہر ہے کہ جذبِ زمین اگر ہو تو وہ نہیں مگر ایك تحریك قسری اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع