30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حیز وہی ہے کہ یہاں اس کی تحقیق سے غرض نہیں، تو حاصل یہ ٹھہرا کہ جب رائی اور پہاڑ دونوں قمر و ارض سے ایسے فاصلے پر ہوں کہ قمر کی طرف قطر ارض کا ۹ء۳ ہو اور زمین کی طرف اء۲۶ کہ ارض و قمر میں بعد قطر زمین کا تیس گناہ ہے۔اس وقت ان دونوں پر قمر و ارض دونوں کی جاذبیت مساوی ہوگی تو دونوں اسی خط پر رہیں گے، نہ کوئی قمر کی طرف جاسکے گا نہ زمین کی طرف جھکے گا تو واجب ہے کہ اگر یہ کسی ترازو کے پلڑوں میں ہوں تو دونوں پلڑے کانٹے کی تول برابر رہیں۔اور اگر رائی کا پلڑا ایك خفیف مقدار پر اس خط مساوات سے زمین کی طرف مائل ہو اور پہاڑ کا اسی خط پر تو پہاڑ وہیں قائم رہے گا اور رائی کا پلڑا اور جھکے گا کہ جذب زمین بقدر قرب بڑھے گا، پہاڑ کا پلڑا ایك خفیف مقدار جانبِ قمر مائل ہو اور رائی کا اسی خط پر تو رائی یہیں قائم رہے گی اور پہاڑ کا پلڑا اونچا ہوگا کہ اس پر جذب قمر بڑھے گا اور اگر رائی کا پلڑا خط سے اس طرف اور پہاڑ کا اس طرف ہوا جب تو رائی کا پلڑا جھکنے اور پہاڑ کا پلڑا اونچا ہونے کی کوئی حد ہی نہ ہوگی۔زیادت کی ان اصورتوں میں اگر کوئی عذر ہو تو رائی اور پہاڑ کے ہم وزن ہونے میں تو کلام کی گنجاش ہی نہیں کیا عقلِ سلیم اسے قبول کرسکتی ہے؟ اگر کہیے جذب مساوی رہی پہاڑ خود وزنی ہے لہذا اسی کا پلڑا جھکے گا۔
اقول:اولًا: دیکھو پھر بولے تمہارے یہاں وزن جذب سے پیدا ہوتا ہے۔(۱۵)جب دونوں طر ف جذب مساوی ہو کر اثر جذب کچھ نہ رہا، ٭ پہاڑ میں وزن کہاں سے آیا۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
۔۴۷۲۱۳۶ء لا:۰ ۲۰۴۱۸۶ء۶لا = ۱۶۴۰۸۰ء۱۳۴:۰ لا = ۱۶۴۰۸۰ ء۱۳۴/۲۰۴۱۸۶ء ۶= ۶۳۵ء۲۱:۰ ی = ۳۷۵ء۸ کس قدر فرق ہے کہاں تین مثل قطر کہاں آٹھ مثل، ڈھائی لاکھ میل سے کم بعد میں چالیس ہزار میل کا تفاوت، جاذبیت، قمر اگر ۱۵ ء تھی واجب کہ مادہ قمر بھی اتنا ہوتا نہ کہ ۱/۷۵ اور مادہ ۱/۷۵ تھا تو واجب کہ جاذبیت بھی اسی قدر ہوتی نہ کہ ۱۵ء کہ جاذبیت بحسب مادہ ہے، اگر کہیے ۱/۷۵، فقط مثال کے لیے فر ض کرلیا ہے۔اقول:ہر گز نہیں ص۲۶۶ پر جو جدول دی ہے اس میں مادہ قمر مادہ زمین کا ۰۱۲۸ء بتایا ہے کہ تقریبًا یہی ۱/۷۵ ہوتا ہے۔۱/۷۵ =۰۱۳ء۰ رفع سے ۱۲۸ ۰ء ۰ بھی ۰۱۳ء۰ ہے اور بفرض غلط اگر فرض غلط تھا تو واقعیت معلوم ہوتے ہوئے غلط فرض کیا معنی کیا واقع سے مثال نہ ہوسکتی مگر ہے یہ کہ واقعی نہ یہ نہ وہ، ان لوگوں کی خیال بندیاں ہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
٭ اقول:وغیرہ پر جو نمبر یعنی ہندسہ ہے وہ یہاں سے ختم ہے قلمی نسخہ میں اس طرح نہیں ہے، عبدالنعیم عزیزی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع