30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نصف النہار بلکہ افق پر اصلًا نہ ہو جیسے وہ زمانہ کہ سیّارات و قمر نور سے سنبلہ تك ہوں اور طالع راس الحمل یا ثوابت تو مہا سنکھوں میل دور سے اجزائے زمین کو خاص اس کی گود سے اچك لیتے، تو چاہیے کہ تمام دنیا کے ریگستانوں میں ریت کا ٹیلہ نہ رہا ہوتا سب کو ثوابت اڑالے گئے ہوتے زمین کہ ان کو جذب کررہی ہے محال ہے کہ وہی دفع کرتی کہ دو ضدین مقتضائے طبع نہیں ہوسکتیں، تو ثابت ہوا کہ جذبِ زمین غلط ہے بلکہ ہوا خفیف ہے اور انمیں جو اجزائے ہوائیہ میں گرمی کے سبب اور لطیف ہوگئے اور اجزائے مائیہ کہ ان میں محبوس ہیں ان میں بوجہ حرارت خفت آگئی جوش دینے میں پانی کے اجزا اوپر اٹھتے ہیں لہذا اجزائے ہوائیہ انہیں اڑا لے گئے کہ حقیقت طالب علو ہے تو بالضرورۃ ثقیل طالب سفل ہے کہ الضد بالضد یہی میل طبعی ہے تو جاذبیت مہمل، یہ اسی دلیل میں دوسری وجہ سے ردجاذبیت ہوا، اگر کہیے اس حقیقت نے ہمیں کیوں نہ فائدہ دیا۔حرارت نے اجزائے آب و ہوا کو ہلکاکیا لہذا ان پر جذب کم ہوا اور برابر کی ہوا نے جس جذب زائد سے ان کو اوپر پھینکا جیسے پانی نے تیل کو۔
اقول:اولًا کیا بخار اسی وقت اٹھتا ہے جب مثلًا پانی جہاں گرم ہوا تھا وہاں سے ہٹا کر ٹھنڈی جگہ لے جاؤ جہاں کہ ہوا کو اثر گرمی نہ پہنچا حاشا بلکہ وہ پیدا ہوتے ہی معًا اٹھتا وہ حرارت کہ اس ہوا کو گرم کرے گی اس کے برابر والی کو گرم نہ کرے گی خصوصًا تیزیِ شمس کے پانی سے بخار اٹھنا کہ آفتاب نے قطعی برابر والی کو بھی اتنا ہی گرم کیا جتنا اسے پھر اس میں اجزائے مائیہ ہونے سے وزن زائد،
ثانیًا: بالکل الٹی کہی تمہارے نزدیك تو جتنا جذب کم اتنا وزن کم(نمبر۱۵)تو خفت قلتِ جذب سے ہوتی ہے نہ کہ قلتِ جذب خفت سے۔
ثالثًا: وہی جو اوپر گزرا کہ مادہ بدستور بعد بدستور، پھر حرارت سے جذب میں کیوں فتور، کیا سبب ہوا کو گرمی نے ہلکا کردیا۔اگر کہیے کہ حرارت بالطبع طالبِ علو ہے، ولہذا نارو ہوا اوپر جاتی ہیں اور برودت بالطبع طالب سفل ہے ولہذا آب و خاك نیچے جھکتے ہیں تو ضرور حرارت سے خفت پیدا ہوگی مگر یہ میل طبعی کا قرار اور جاذبیت پر تلوار ہوگا۔
رَدِّبستم:جو نمبر۱۸ کے رابعہ میں گزرا کہ جذبِ زمین ہے تو اندر کی ہوا کا اوپر کا ابھارنا کیا معنی اور وہ اس قوت سے کہ صدہا من کے بوجھ کو سہارا دے نہیں نہیں فنا کردے کہ محسوس ہی نہ ہو۔
ردِّ بست ویکم:اقول:ہر عاقل جانتا ہے کہ رائی کا دانہ پہاڑ کے کروڑویں حصے کے بھی ہم وزن نہیں ہوسکتا نہ کہ سارے پہاڑ سے کانٹے کی تول برابر، مگر مسئلہ جاذبیت صحیح ہے تو یہ ہو کر رہے گا، بلکہ رائی کا دانہ پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوگا، ظاہر ہے کہ پلے کا جھکنا اثر جذب ہے جس پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع