30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کھنچ جائے پانی کا ذرہ بھر اٹھنا ممکن نہیں زمین کے اس طرف چاند کے خلاف کوئی دوسرا حامل اقوی نہ تھا جس سے چاند اسے نہ چھین سکتا اور پانی کو زمین مہا سنکھوں زیادہ زور سے کھینچ رہی ہیں چاند اسے کیونکر کھینچ سکے گا۔اس کی نظیر یہ ہے کہ مثلًا سیر بھر وزن کے ایك گولے میں لوہے کا پتر نہایت مضبوط کیلوں سے جڑا ہوا ہے تم اس گولے کو ہاتھ سے کھینچ سکتے ہو لیکن اس پتر کو گولے سے جدا نہیں کرسکتے جب تك و ہ کیلیں نہ نکالو یہاں پانی پر وہ کیلیں صد ہا مہاسنکھوں طاقت سے جذب ہے جب تك یہ معدوم نہ ہو پانی ہزاروں چاندوں کے ہلائے ہل نہیں سکتا لیکن ہلتا کیا گزوں اٹھتا ہے تو ضرور جذب زمین معدوم ہے۔ وھو المقصود اگر کہیے ضرور اس سے زمین کی جاذبیت تو باطل ہوگئی لیکن قمر کی تو مسلم رہی۔
اقول:اوّل: مقصود ابطال حرکت زمین ہے وہ جاذبیت شمس پر مبنی اور اوپر گزرا کہ زمین ہی میں جاذبیت گمان کرکے شمس کو اس پر بلادلیل قیاس کیا ہے جب یہی باطل ہوگئی قیاس کا دریا ہی جل گیا شمس میں کہاں سے آئے گی یا یوں کہیے کہ ہیأت جدیدہ کا وہ کلیہ کہ ہرجسم میں بقدر مادہ جاذبیت ہے جس کی بنا ء پر شمس میں اس کے لائق جاذبیت اور اس کے سبب زمین کی حرکت مانی تھی باطل ہوگیا اور جب معلوم ہوگیا کہ بعض اجسام میں جذب ہے بعض میں نہیں تو جذب شمس پر دلیل نہ رہی ممکن کہ شمس انہیں اجسام سے ہو جن میں جذب نہیں۔
ثانیًا: مد کا جذب قمر سے ہونا بھی بوجوہ کثیرہ مخدوش ہے جن کا بیان نمبر ۱۶ میں گزرا۔
رَدِّ یاز دہم:اقول:جو دوسری طرف کی مد کی توجیہ کی کہ زمین اٹھتی ہے اور ادھر کے پانی کو چھوڑ آتی ہے۔جاذبیت ارض کی نفی پر دلیل روشن ہے سمت مواجہ کے پانی پر تو ارض و قمر کا تجاذب تھا یہ غلط مان لیا کہ قمر غالب آیا، سمت دیگر کے پانی کو تو دونوں جانب زمین ہی کھینچ رہی ہے اسے زمین نے کیونکر چھوڑا قمر کا جذب اس پر کم تو زمین کاجذب تو بقوت اتم ہے اور یہاں اس کا معارض نہیں پھر چھوڑ دینے کے کیا معنی ٰ!
رَدِّ دوازدہم:اقول:یہ جو ہیاتِ جدیدہ نے اقرار کیا کہ جذب قمر میں پانی زمین کا ملازم نہیں رہتا قمر کی جانب مواجہ میں بوجہ لطافت و قرب آب پانی زمین سے زیادہ اٹھتا ہے اور دوسری طرف بوجہ بعد آب زمین پانی سے زیادہ اٹھتی ہے۔یہ بڑے کام کی بات ہے اس نے زمین پر جاذبیت شمس کا قطعی خاتمہ کردیا اگر وہ صحیح ہوتی تو جب جذب قمر سے یہ حالت ہے جو انتہا درجہ صر ف ۷۰ ہی فٹ اٹھا سکتا ہے تو جذب شمس کہ زمین کو ۳۱ لاکھ میل سے زیادہ کھینچ لاتا ہے۔واجب تھا کہ پانی پر اسی ۷۰ فٹ اور ۳۱ لاکھ ۱۶ ہزار باون میل کی نسبت سے اشد واقوی ہوتا سامنے کے پانی زمین کو چھوڑ کر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع