30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول:ہزاروں بار ہوتا ہے کہ سب سیارے مع زمین ایك طرف ہوتے ہیں اور تنہا قمر دوسری جانب اور ثوابت کا اثر جذب نہ مانا گیا ہے نہ ماننے کے قابل ہے کہ وہ سب طرف محیط ہیں تو داب یکساں ہو کر اثر صفر رہا۔اب قمر کیوں نہیں گرتا۔یہ تمام عظیم ہاتھی جمع ہو کر اپنی پوری طاقت سے اس چھوٹی سی چڑیا کو کھینچتے کھینچتے ہلکان ہوئے جاتے ہیں اور چڑیا ہے کہ بال بھر نہیں سرکتی اس کی تیوری پر میل تك نہیں آتا یہ کیسی جاذبیت ہے لاجرم جاذبیت محض غلط ہے۔
ردّنہم:اقول:نافریت کی گندم پہلے کاٹ چکے ہیں اور بفرضِ باطل ہو بھی تو یہ قرار داد ہے کہ وہ بقدر جاذبیت بڑھتی ہے اور چال بقدر نافریت(نمبر۷)تو واجب تھا کہ جب سیارے گرد قمر متفرق ہوتے اس کی چال کم ہوتی کہ ان کی جاذبیت باہم معارض ہو کر قمر پر اثر کم پڑرہا ہے اور جب سیارے قمر سے ایك طرف ہوتے اس کی چال ہمیشہ سے بہت زائد ہوجاتی کہ اسے مجموع جا ذبیتوں کا مقابلہ کرنا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا بلکہ " وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ"[1] (اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کیں۔ت)کے زبردست محکم انتظام نے اسے جس روش پر ڈال دیا ہے ہمیشہ اسی پر رہتا ہے وہ سیاروں کے اجتماع کی پرواہ کرتا ہے نہ تفر ق کی، تو قطعًا ثابت ہوا کہ جاذبیت محض وہمی گھڑت ہے۔
رَدِّ دہم:اقول:ان سب سے بڑھ کر بطلان جاذبیت پر شہادت بحراوقیانوس
کا مدوجزر ہے، ہر روز دوبار پانی گزوں حتی کہ ۷۰ فٹ تك اونچا اٹھتا اور پھر بیٹھ جاتا ہے اسے جاذبیت قمر کے سر ڈھالنا
جاذبیت ارض کو سلام کرنا ہے اگر قمر کو اس کے بعد[2]اقرب
۲۲۵۷۱۹ میل پر رکھئے اور زمین کی جاذبیت اس کے مرکز سے
لیجئے کہ پانی کو اس سے ۵ء ۳۹۵۶ میل بعد ہو تو حسب قاعدہ نیوٹن اگر زمین و قمر
میں قوت جذب برابر ہوتی پانی پر دونوں کے جذب کی نسبت یہ ہوئی جذب قمر:جذب ارض: :(۵ء۳۹۵۶)۲ =(۳۵۵۷۱۹)۲ ثانی کو ایك فرض کریں تو سوم =چہارم = جذب قمر
ہوتا یعنی ۲۵ء۱۵۶۵۳۸۹۲
۵۰۹۴۹۰۶۶۹۶۱ = ۰۰۰۳۰۷۲۴۵۹ء۰لیکن قمر میں قوتِ جذب قوتِ زمین کی ۱۵[3]ہے لہذا اسے ۰۵ء
میں ضرب دیا حاصل ۰۰۰۰۴۶ء۰ یعنی پانی پر جذب قمر اگر ۲۳ ہے تو جذب زمین پانچ لاکھ یا قمر اگر ایك قوت سے جذب کرتا ہے توز مین ۲۱۷۳۹ قوتوں سے پھر کیونکر ممکن پانی بال برابر بھی اٹھنے پائے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع