دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 27 | فتاوی رضویہ جلد ۲۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲۷

مقابلہ کے وقت دور تر حالانکہ قریب وقت اجتماع آفتاب کی جاذبیت کہ مجموع ہر دو جذب کی ۱۱/۱۶ ہے صرف ۳/۸ ہی عمل کرتی ہے کہ قمر شمس وارض کے درمیان ہوتا ہے زمین اپنی طرف پانچ حصے کھینچتی ہے اور شمس اپنی طرف گیارہ حصے تو بقدر فصل جذب شمس ۶/۱۶ جانب شمس کھینچا، نہیں نہیں، بلکہ بہت ہی خفیف، جیسا کہ ابھی ردپنجم میں واضح ہوا اور قریب وقت مقابلہ جاذبیت کے سب ۱۶ حصے قمر کو جانب شمس کھینچتے ہیں کہ ارض شمس و قمر کے درمیان ہوتی ہے دونوں مل کر قمر کو ایك ہی طرف کھینچتے ہیں۔غرض وہاں تفاضیل کا عمل تھا یہاں مجموع کا کہ اس کے سہ چند کے قریب بلکہ بدرجہائے کثیرہ زائد ہے تو واجب کہ وقت مقابلہ قمر شمس سے بہ نسبت اجتماع قریب تو آجائے حالانکہ اس کا عکس ہے تو ثابت ہوا کہ جاذبیت باطل ہے۔ اصول الہیأت نمبر۲۱۰ میں اس قرب و بعد کی یوں تقریر کی کہ اجتماع کے وقت زمین قمر کو شمس سے چھین لے جاتی ہے اور وہ دور ہوتا رہتا ہے یہاں تك کہ مقابل شمس آتا ہے اس وقت شمس و زمین دونوں اسے ایك طرف کھینچتے ہیں تو آفتاب سے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تك کہ اجتماع میں آتا رہتا ہے۔

اقول:کیا زمین وقت مقابلہ سے وقت اجتماع تك نیرین کے بیچ ہی میں رہتی ہے کہ وہ سلسلہ آفتاب سے قریب کرنے کا مسلسل رہتا ہے یا زمین تو مقابلے کے بعد ایك کنارے کو گئی اور جب سے اجتماع ہونے تك جہت خلاف شمس کھینچتی رہی اور اس کا جذب جذب شمس سے بدرجہا زائد ہے جیسا کہ ابھی ردپنجم میں گزرا پھر بھی چاند ہی کہ شمس ہی کی طرف کھینچتا ہے شاید مقابلہ کے خفیف ساعت میں زمین نے اس کے کان میں پھونك دیا تھا کہ چاہے میں کہیں ہوں چاہے میں کسی طرف کھینچوں اور کتنے ہی غالب زور سے کھینچوں مگر تو اسی وقت کے اثر پر رہنا آفتاب ہی سے قریب ہوتا جانا میری ایك نہ مانا کیونکہ وہ بڑا بوڑھا ہے اس کا لحاظ واجب ہے اور چاند ایسا سعادت مند کہ اسی پر کار بند جب کھینچتے وہ آفتاب کی گود کے پاس پہنچا یعنی اجتماع میں آتا ہے اس وقت زمین اپنی نصیحت پر پریشان ہوتی ہے اور بڑھ کر وہ ہاتھ لگاتی ہے کہ شمس کی گود سے اسے چھین کر آدھے دورے میں نہایت دوری پر لے جاتی ہے یہاں آکر پھر بھول جاتی اور وہی انچھر چاند کے کان میں پھونکتی ہے ایسی پاگل زمین ہیأتِ جدیدہ میں ہوتی ہوگی، غرض دنیا بھر کے عاقلوں کے نزدیك علت کے ساتھ معلول ہوتا ہے اور وہ علت فنا ہو کر علت خلاف پیدا ہو تو فورًا خلاف ہوجاتا ہے لیکن ہیات جدیدہ کے نزدیك علت کو فنا ہوئے مدتیں گزریں اور خلاف کی علتیں برابر روزانہ ترقی پر ہیں مگر معلول اسی مردہ علت کا جاگ رہا ہے اور ان زندہ علتوں کا معلول فنا ہے یعنی ادھر تو علت معدوم اور معلول قائم اور ادھر علت موجود دو مترقی اور معلوم معدوم۔

رَدِّ ہفتم:اقول:پھر وہ پانچ وگیارہ کی نسبت تو مزعوم ہیأت جدیدہ تھی جس میں خود قاعدہ نیوٹن سے کہ جاذبیت بحسب مربع بعد بالقلب بدلتی ہے عدل تھا۔اس کا ردّ نمبر ۱۴ میں گزرا، یہ قاعدہ نیوٹن اگر


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن