30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ا ہ ر ب، مدار بیضی ہے مرکز طؔ شمس اس کے نیچے نقطہ ح پر ا و ج ب حضیض مرکز طؔ پر بعد اطؔ یا ط بؔ سے کہ مساوی ہیں دائرہ ا ب ح ء معدل المسیر ہے اور اگر یہ مراد کہ مرکز شمس پر اوج کی دوری سے دائرہ کھینچیں ظاہر ہے کہ زمین اوج میں اس دائرے پر آئے گی اور حضیض میں اس سے باہر ہوگی یعنی اس پر نہ ہوگی اس کے اندر ہوگی تو اس کے تعین کی کیا علت، کیوں نہ مرکز شمس پر حضیض کی دوری سے دائرہ کھینچے کہ زمین حضیض میں اس پر ہو اور اوج میں نہ اس پر نہ اندر حقیقۃً باہر معتبر و ملحوظ دائرہ معدل المسیرہی کیوں نہیں لیا جاتا کہ دونوں میں اس پر گزرے۔

ثانیًا: اس دائرے پر آنے کو شمس کی طرف لائے اور اس سے جدائی کو شمس سے لے جانے میں کیا دخل ہے لانا جذب ہے اور بحسب قرب ہے تو دور سے لانا اور قریب بھگانا الٹی منطق ہے شاید نقطہ اوج میں لاسا لگا ہے کہ طائر زمین کو پھانس لاتا ہے نقطہ حضیض پر کھٹکھٹا بندھا ہے کہ بھگا دیتا ہے۔
ثالثًا: اس دائرے ہی میں کچھ وصف ہے تو زمین صرف حلول نقطہ اوجی ہی کے وقت وہ ایك آن کے لیے اس پر ہوگی یہ آدھے سال آنا اور آدھے سال بھاگنا کیوں، غرض یہ کہ بنائے نہیں بنتی ظاہر ہوا کہ حیلے بہانے محض اسکولی لڑکوں کو بہلانے کے لیے مغالطے ہیں جاذبیت و نافریت کے ہاتھوں ہر گز مداربن نہیں سکتا۔بخلاف ہمارے اصول کے کہ زمین ساکن اور آفتاب اس کے گرد ایك ایسے دائرے پر متحرك جس کا مرکز مرکز عالم سے اکتیس لاکھ سولہ ہزار باون میل باہر ہے اگر مرکز متحد ہوتا زمین سے آفتاب کا بعد ہمیشہ یکساں رہتا مگر بوجہ خروج مرکز جب آفتاب نقطہ ا پر ہوگا مرکز زمین سے اس کا فصل ا ح ہوگا یعنی بقدر اب نصف قطر مدار شمس ب حؔ مابین المرکزین اور جب نطقہ ء پر ہوگا اس کا فصل ح ءؔ ہوگا یعنی بقدر ب ءؔ نصف قطر مدار شمس مابین المرکزین دونوں فصلوں میں دو چند مابین المرکزین فرق ہوگا۔یہ اصل کروی پر ب حؔ ہے لیکن وہ بعد اوسط پر لیا گیا ہے۔ہ مرکز مدار شمس بؔ فوکز اعلٰی حؔ فوکز اسفل جس پر زمین ہے اس میں شمس اس مابین المرکز ین ب حؔ مابین الفو کزین جانتے ہیں اور مابین المرکزین ہ حؔ اس کا نصف کہ بعد اوسط اجؔ متصف مابین الفوکزین پر ہے۔

کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع