30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بدرجہ غایت ہے کہ چال سب سے زیادہ تیز ہے تو جاذبیت بھی بحد کمال ہے کہ قرب شمس سب جگہ سے زائد ہے نافریت جاذبیت سے چھینے تو جب کہ اس پر غالب آئے برابر سے چھین لینا کیا معنی!
ثانیًا: اگر مساوی قوت دوسری پر غالب آسکتی ہے تو یہاں خاص نافریت کیوں غالب آئی جاذبیت بھی تو مساوی تھی وہ کیوں نہ غالب ہوئی یہ ترجیح بلا مرجح ہے۔
ثالثًا: اگر نافریت ہی میں کوئی ایسا طرہ ہے کہ بحال مساوات وہی غالب آئے تو اسے مساوات تو روز اول سے تھی اور نقطوں پر کیوں نہ غالب آئی اسی نقطے کی تعین کیوں ہوئی۔
رابعًا: ہمیشہ اسی کا التزام کیوں ہوا۔
خامسًا: مساوات تو تم بگھار رہے ہو ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ نقطہ اوج سے نقطہ حضیض تك برابر جاذبیت غالب آرہی ہے۔قوت کا غلبہ اس کے اثر سے ظاہر ہوتا ہے جاذبیت قرب کرنا چاہتی ہے اور نافریت دور پھینکنا مگر وہاں سے یہاں تك برابر شمس سے قرب ہی بڑھتا جاتا ہے نافریت اگرچہ بیچارے برابری کے درجے پر متواتر چال تیز کررہی ہے لیکن اس کی ایك نہیں چلتی اور جاذبیت ہی کا اثر علی الاتصال غالب آرہا ہے پھر کیا معنٰی کہ عین شباب غلبہ پر دفعۃً مغلوب ہوجائے۔
سادسًا: نافریت اگر بڑھی ہے تو خاص نقطہ حضیض پر، یا تو اس نے زمین کو آفتاب سے بال بھر بھی نہ چھینا کہ غایت قرب پر ہے چھینے گی۔آگے بڑھ کر اس نقطے سے چل کر شمس سے بعد بڑھتا جائے گا،مگر اس نقطے سے سرکتے ہی نافریت بھی تیزی پر رہے گی ہر آن ضعیف ہوتی جائے گی کہ قدم قدم پر چال سست ہوگی۔عجیب کہ اپنی کمال قوت پر تو نہ چھین سکی جب ضعیف پڑی چھین لی گئی۔
سابعًا: طرفہ یہ کہ جتنی ضعیف ہوتی جاتی ہے اتنی ہی زیادہ چھین رہی ہے کہ جس قدر چال سست ہوتی ہے اتنا ہی بعد بڑھتا ہے یہاں تك کہ ا پر کمال سستی کے ساتھ نہایت بعد ہے کیا عقل سلیم ان معکوس باتوں کو قبول کرسکتی ہے ہر گز نہیں عاجزی سب کچھ کراتی ہے۔اصول علم الہیاۃ [1]نے اس پر عذر گھڑا کہ مرکز شمس کے گرد جو دائرہ ہے اوج میں زمین کا راستہ اس دائرے کے اندر ہو کر ہے لہذا شمس کی طرف آتی ہے اور حضیض میں اس دائرے سے باہر ہے لہذا نکل جاتی ہے۔
اقول:اوّلا: کون سا دائرہ یہاں ایك دائرہ معدل المسیر لیا جاتا ہے کہ مرکز شمس کے گرد نہیں مرکز بیضی کے گرد ہے اور دونوں نقطہ اوج و حضیض پر یکساں گزرا ہوا ہے اس شکل سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع