30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رابع درکار ہوگا۔اور اسی طرح غیر متناہی چلا جائے گا یا واپس آئے گا۔مثلًا شمس ثالث سے روشن اور ثالث شمس سے وہ تسلسل تھا یہ دور ہے اور دونوں محال یہ منطق الطیر اسی بے بضاعتی کا نتیجہ ہے جو ان لوگوں کو علوم عقلیہ میں ہے، ورنہ ہر عاقل جانتا ہے کہ شاہد پر غالب کا قیاس محض وہم اور وسواسی ہے۔
رَدِّ سوم:اقول:تم جاذبیت کے لیے نافریت لازم مانتے ہو کہ وہ ہو اور[1]یہ نہ ہو تو کھینچ کر وصل ہوجائے اور ہم نافریت باطل کرچکے تو جاذبیت خود ہی باطل ہوگئی کہ بطلان لازم بطلان ملزوم ہے۔
رَدِّ چہارم:اقول:جاذبیت کے بطلان پر پہلاشاہد عدل آفتاب ہے اس کے مدار میں جسے وہ مدار زمین سمجھتے ہیں ایك نقطہ مرکز زمین سے غایت بعد پر ہے جسے ہم اوج کہتے ہیں اور دوسرا نہایت قرب پر جسے حضیض ان کا مشاہدہ ہر سال ہوتا ہے تقریبًا سوم جولائی کو آفتاب زمین سے اپنے کمال بعُد پر ہوتا ہے اور سوم جنوری کو نہایت قرب پر یہ تفاوت اکتیس لاکھ میل سے زائد ہے تفتیش جدیدہ میں شمس کا بعد اوسط نوکروڑ انتیس لاکھ میل بتایا گیا اور ہم نے حساب کیا مابین المرکزین دو درجے ۴۵ ثانیے یعنی ۵۲۱۲ء ۲ ہے تو بعد ابعد ۹۴۴۵۸۰۲۶ میل ہوا اور بعد اقرب ۹۱۳۴۱۹۷۴ میل تفاوت ۳۱۱۶۰۵۲ میل اگر زمین آفتاب کے گرد اپنے مدار بیضی پر گھومتی ہے جس کے فوکز اسفل میں شمس ہے جیسا کہ ہیأت جدیدہ کا زعم ہے تو اول ان کی سمجھ کے لائق یہی سوال ہے کہ زمین اتنے قوی عظیم شدیدہ ممتدید ہزار ہا سال کے متواتر جذب سے کھینچ کیوں نہ گئی۔ہیأت[2]جدیدہ میں آفتاب ۱۲ لاکھ ۳۵ ہزار ۱۳۰ زمینوں کے برابر اور بعض[3]نے دس۱۰ لاکھ بعض[4]نے چودہ لاکھ دس۱۰ ہزار لکھا اور ہم نے مقررات عــــــہ جدیدہ پر بربنائے اصل کروی حساب کیا تو تیرہ لاکھ تیرہ ہزار دو۲ سو چھپن زمینوں کے برابر آیا۔
عــــــہ:وہ مقررات تازہ یہ ہیں قطر مدار شمس ۱۸ کروڑ ۵۸ لاکھ میل قطر معدل زمین ۰۸۶ء ۷۹۱۳ میل قطر اوسط شمس دقائق محیطیہ سے ۳۲ دقیقے ۴ ثانیے پس اس قاعدے پر کہ ہم نے ایجاداوراپنے فتاوٰی میں جلد اول رسالہ الھنئی المنیر فی الماء المستدیر میں ایراد کیا۔۶۹۰۴۵۷ء لوامیال قطر مدار + ۴۹۷۱۴۹۹ء۔ (باقی برصفحہ آئندہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع