30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے کثیف تر ملاء درکار ہوا کہ زمین ہو یا پانی کیا اتنی سمجھ نہ تھی یا بطلان میل پر کوئی قطعی دلیل قائم کرلی اور جب کچھ نہیں تو جاذبیت کا خیال محض ایك احتمال ہوا محتمل مشکوك بے ثبوت بات پر علوم کی بنا رکھنا کارِ خردمنداں نیست(عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔ت)
ثانیًا لطف یہ کہ یہی ہیأت جدیدہ والے جا بجا عــــــہ۱ ثقیل میں میل سفل مانتے خفیف میں میل علو لکھ جاتے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ میل جاذبیت کا سارا میل کاٹ دے گا جب ثقیل اپنے میل سے گرتا سیب کا ٹوٹنا جاذبیت پر کہاں دلالت کرتا ہے یہ یقین و احتمال و طریق استدلال و منصب مدعی و سوال سے ان کی ناواقفی ہے معلول کےلیے علت درکار ہے جب ایك کافی ووافی علت موجود اور تمہیں بھی مسلم ہے تو اسے چھوڑ کر دوسری بے ثبوت کی طرف اسے منسوب کرنا کون سی عقل ہے۔بالفرض اگر علت کافیہ معلوم نہ ہوتی بلادلیل کسی شیئ کو علت بتادینا مردود ہوتا ہے وہاں یہ کہنا تھا کہ علت ہمیں معلوم نہ ہوتی بلا دلیل کسی شیئ کو علت بتادینا مردو دہوتا ہے وہاں یہ کہنا تھا کہ علت ہمیں معلوم نہیں، نہ یہ کہ کافی علت موجود و مسلم ہوتے ہوئے اس سے فرار اور دوسری بے دلیل قرار جاذبیت کے رد کو ایك یہی بس ہے یہاں سے ظاہر ہوا جاذبیت پر ایمان بالغیب انہیں مجبورانہ میل طبعی کے انکار پر لانا ہے اگرچہ وہ نادانی سے کہیں مقر ہوں اگرچہ وہ بے دلیل منکر ہو(عــــــہ۲ ۔۱۱)اور میل طبعی کا ثبوت بلکہ احتمال ہی جاذبیت کو باطل کرتا ہے کہ جب میل ہے جاذبیت کی کیا حاجت اور اس کے وجود پر کیا دلیل، یہ تقریر بعض دلائل آئندہ میں ملحوظ خاطر رہے۔
رَدِّ دوم:اقول:فرض کردم کہ سیب گرنے سے زمین پر جاذبیت کا آسیب آیا مگر اس سے شمس میں جاذبیت کیسے سمجھی گئی جس کے سبب گردش کا طومار باندھ دیا گیا اس پر بھی کوئی سیب گرتے دیکھا۔یا یہ ضرور ہے کہ جو کچھ زمین کے لیے ثابت ہو آفتاب میں بھی ہو۔زمین بے نور ہے آفتاب سے منور ہوتی ہے۔آفتاب بھی بے نور ہوگا کسی اور سے روشن ہوگا۔یونہی یہ قیاس اس ثالث کو نہ چھوڑے گا اس کے لیے
عــــــہ۱:ح ص ۳۴ ثقل ہمیشہ اجسام کو جانب اسفل کھینچتا ہے۔ص۳۷ اجسام کو جانب پائیں مائل کرتا ہے۔ص ۳۹ اجسام بقدر ثقیل مطلق سے قرب کے طالب پانی ہمیشہ بالطبع بلندی سے پستی کی طرف میل کرتا ہی۔ص ۲۱۲ بخار جتنا ہلکا ہوگا۔زیادہ بلند ہوگا۔ص ۲۱۷ بخار ہوا سے زیادہ لطیف و خفیف لہذا میل علو کرتا ہے۔
عــــــہ۲:ص ۲۱۷ حرارت آفتاب کے سبب اجزائے آب ہلکے ہو کر قصد بالا کرتے ہیں یونہی زمین کے جلے ہوئے اجزاء حرارت وقفت کے باعث۔ص ۲۱۵ ابربحسب ثقل یا لطافت نیچے یا اوپر حرکت کرتا ہے۔ط ص ۱۱۵ منجمد اجسام کے تمام اجزاء مل کر زمین کی طرف میل کرتے ہیں اور سیال اجسام کا ہر جز جدا میل زمین کرتا ہے ص ۱۴۱۔ص ۲۱۷ ہوا گرمی سے ہلکی ہو کر بالا سعود کرتی ہے یونہی جغ ص ۹ میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع