30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فائدہ:اسی دلیل سے بیضیت رَد ہوسکتی ہے کہ جب ہر طرف بعد برابر تو ضرور مدار دائرہ تامہ ہوگا نہ بیضی لیکن وہ بیضیت سے انکار کرسکتے ہیں نہ کوئی عاقل شمس کو عین مرکز پر مان سکتا ہے کہ مشاہدہ ہر سال سے باطل ہے لاجرم نافریت و حرکت زمین کو رخصت کرنا لازم ہے۔
رَدِّ ہشتم:اقول:نافریت جاذبیت سے دست و گریبان ہو کر کوئی مدار بنا ہی نہیں سکتی، نمبر ۳۴ میں سن چکے کہ زمین کو نصف حضیضی میں قُرب زیادہ ہوتا جاتا ہے۔اور نصف اوجی میں بعد اور نطاق اوّل و سوم میں مرکز سے قرب بڑھتا جاتا ہے اور دوم و چہارم میں بعد۔یہ مسائل مسلمہ ہیں جن میں کسی کو مجال سخن نہیں لیکن نافریت و جاذبیت کا تجاذب ہر گز یہ کھیل نہ بنا رکھے گا۔

ا طؔ، کوئی سا قطرفرض کرلیجئے اور اؔ، اس کا کوئی ساکنارہ اور طؔ مرکز خواہ شمس کی جاذبیت نے زمین کو اؔ سے طؔ اور نافریت نے بؔ کی طرف قائمہ پر پھینکنا چاہا اور تعاول قوتین نے کہ جاذبیت اور نافریت کو مساوی مانا ہے(نمبر۶)اسے کسی طرف نہ جانے دیا بلکہ زاویہ اؔ کی تصنیف کرتا ہوا خط ا ح پر حؔ تك لایا۔اب اؔ سے زمین کا بعد ط حؔ ہوا زاویہ ا طؔ ایك عاشرہ یا اس سے بھی خفیف تر کوئی حصہ مانیے تاکہ وہ لہر دار متفرق مستقیم خطوط جن کو چھوٹے چھوٹے مستطیلوں کے قطر کہا جو ہر جزء حرکت پر جذب و نفرت سے بچ کر بیچ میں پڑتے اور ایك لہر دار منحنی کثیر الزوایا شکل بناتے ہیں غایت صغر کے سبب ان کے زاویے اصلًا کسی آلے سے بھی قابل احساس نہ رہیں اور ایك منتظم گولائی لیے ہوئے شبیہ بہ دائرہ یا بیضی پیدا ہو مثلث ا ط جؔ میں اؔ نصف قائمہ ہوگا۔اور ط وہ خفیف کا لعدم زاویہ اور ح مفرجہ کہ ۱۳۵ درجے سے صرف بقدر ط چھوٹا ہے لا جرم ط ح کہ حادہ کا وتر ہے۔اط سے چھوٹا ہوگا یعنی ط سے زمین کا بعد کم ہوا۔ا ب حؔ پر وہی کشمکش ہے جاذبیت ا سے ط کی طرف کھنچتی ہے اور نافریت ۳ کی طرف قائمہ پر پھینکتی اور تعاول قوتیں دونوں سے بچا کر ط ح ء قائمہ کے منصف ح ہ پر ہ تك لانا اور پھر ر اور ح ط ہ اتنا ہی خفیف بنتا اور ط ہ وتر حادہ ط ح و تر منفرجہ سے چھوٹا ہوتا ہے یعنی ط سے اور قریب ہوئی، یونہی ہ پر وہی معاملہ پیش آئے گا اور ط ح، ط حؔ سے چھوٹا ہوگا ہمیشہ یہی حالت رہے گی، تو زمین کو طؔ سے ہر وقت قُرب ہی بڑھے گا تو اس کا کوئی مدار بنانا اصلًا ممکن نہیں دائرہ ہو تو وہ ہر طرف بعد برابر چاہے گا اور یہاں ہر وقت مختلف ہے اور بیفی اہلیلجی، شلجمی کوئی شکل ہو تو ایك قطر اطول ایك اقصر رہے جس میں دو نطاق مرکز سے قریب کریں گے تو دو بعید ایك نصف شمس سے قریب کرے گا تو دوسرا بعید، حالانکہ یہاں ہرو قت قرُب ہی بڑھ رہا ہے تو زمین اگر گرد شمس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع