30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حرکت کسی طرح نافریت عــــــہ کے ماتھے نہیں جاسکتی۔
رَدِّ ششم:یہ سب محض ہے دلیل ٹھان لیجئے تو نافریت قائمہ ہی پر تو لے جائے گی۔(نمبر۵)حادہ پر لانا تو اور مرکز سے قریب کرنا ہے تو نفرت نہ ہوئی بلکہ رغبت لیکن ہیات جدیدہ مدار زمین دائرہ نہیں مانتی بلکہ بیضی اور اس میں طرفین قطر کے سوا باقی سب زاویے حادے بنیں گے جس کا خود ان کو اعتراف [1]ہے، تونافریت باطل اور رغبت حاصل۔
فائدہ:اس دلیل کو چاہے ابطال نافریت و ابطال حرکت زمین پر کرلو چاہے ابطال بیضیت مدار پر، اول تو یوں ہیں جو ابھی مذکور ہوا کہ نافریت ہوتی تو مدار بیضی نہ ہوتا۔، لیکن وہ بیضی ہے اور نافریت باطل تو حرکت زمین باطل اور آخر یوں ہوا کہ مدار اگر بیضی ہوتا تو نافریت نہ ہوتی تو دورہ نہ ہوتا اور دورہ نہ ہوتا تو مدار نہ ہوتا۔نتیجہ یہ کہ مدار اگر بیضی ہوتا تو مدار نہ ہوتا، شے خود اپنے نفس کی مبطل، لہذا بیضیت باطل اب ہیأت جدیدہ کو اختیار ہے جس کا بطلان چاہے قبول کرے مگر یاد رہے کہ بیضیت وہ چیز ہے کہ شروع [2]سترھویں صدی عیسوی میں کپلر نے آٹھ سال رصدبندی کی جانکاہ محنت کی اور مدار کو دائرہ مان کر ۱۹ طریقے فنا کیے کوئی نہ بنا اس کے بعد مدار بیضی لیا اور سب حساب بن گیا اور اسی پر قواعد کپلر کی بنا ہوئی جس بیضیت اور قواعد کپلر پر تمام یورپ کا ایمان ہے اسے باطل مان لینا سہل نہ ہوگا۔لہذا راہ یہی ہے کہ حرکت زمین سے ہاتھ اٹھائیں کہ ان تمام خرخشوں سے نجات پائیں۔
رَدِّ ہفتم:اقول:ظاہر ہے کہ نفرت جذب سے ہے اور جذب جمیع جہات شمس سے یکساں اور جتنا جذب اتنی ہی نفرت(۷)تو واجب کہ ہر طرف نافریت یکساں ہو اور جتنی نافریت اتنا ہی بعد، تو لازم کہ سب طرف شمس سے بعد یکسا ں ہو آفتاب عین مرکز مدار ہو لیکن وہ مرکز سے ۳۱ لاکھ میل فاصلہ پر فوکز اسفل میں ہے تو نافریت باطل کہ وہ ایسی چیز چاہتی ہے جو امرِ واقع و ثابت کے خلاف ہے۔
عــــــہ:اگر کہیے ارادہ الہیہ نے ایك سمت معین کردی اگرچہ اس کہنے کی تم سے امید نہیں کہ طبیعات والے اسے بالکل بھولے بیٹھے ہیں، ہر بات میں طبیعت و مادہ کے بندے ہیں، یوں کہے تو جاذبیت و نافریت کا سارا گورکھ دھندہ اٹھا رکھئے ارادہ الہیہ خود سب کچھ کرسکتا ہے اور جب رجوع الی اﷲ کی ٹھہری تو ہیات جدیدہ کا تھل بیڑہ نہ لگا رہے گا اس کا ارادہ وہ جانے یا تم کتب الہیہ آسمانوں کا وجود بتائیں گی اور آفتاب کی حرکت جیسا کہ بعونہ تعالی خاتمہ میں آتا ہے اس پر ایمان لانا ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع