30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثالثًا: آفتاب بھی تو اپنے محور پر گھومتا ہے وہ کس نور و حرارت کی طلب کو ہے۔بالجملہ یہ وجہ بے ہودہ ہے بلکہ اصول ہیأت جدیدہ پر اس کی وجہ ہم بیان کریں۔
اقول:اس کا سبب بھی جاذبہ عــــــہ۱ ونافرہ ہے جذب قُرب و بعد سے مختلف ہوتا ہے ولہذا خط عمود پر سب سے زیادہ ہے کلیت سیارہ مثلًا ارض کے لیے جاذب سے تنفر کا جواب مدار پر جانے سے ہوگیا مگر اب بھی اس کے اجزاء پر جذب مختلف ہے خاص وہ اجزا کہ مقابل شمس ہیں ان پر جذب اقویٰ ہے اور ان میں بھی جو بالخصوص زیر عمود ہے پھر جتنا قریب ہے۔(نمبر۱۰)یہ اجزاء اس سے بچنے کے لیے مقابلہ سے ہٹتے اور بالضرورت اپنے اگلے اجزاء کو اپنے لیے جگہ خالی کرنے کو دفع کرتے ہیں وہ اپنے اگلوں کو وہ اپنے اگلوں کو یوں محور پر دورہ پیدا ہوتا ہے اب جو اجزاء پہلے اجزا سے مقابلہ کے پیچھے تھے مقابل آئے اب یہ مقابلہ سے بچنے کو اپنے اگلوں کو ہٹاتے ہیں اور وہی سلسلہ چلتا ہے یوں دورہ پر دورہ مستمر رہتا ہے۔اگر کہئے زمین بوجہ کثرت بعد وقلت حجم آفتاب کے آگے گویا ایك نقطہ ہے ولہذا آفتاب کا اختلاف منظر ۹ ثانیے بھی نہیں تو اس کے اجزا پر مقابلہ وہ حجاب کا اختلاف نہ ہوگا بلکہ گویا سب مقابل ہیں۔
اقول:اولًا نظر عــــــہ۲ ظاہر میں تو یہی کافی کہ ایسا ہے تو تقریبًا نصف کرُہ زمین میں ہمیشہ رات کیوں رہتی ہے سب ہی روشن رہا کرے کہ سب مقابل شمس ہے۔
ثانیًا آخر کچھ نہیں تو اختلاف منظر کیوں، جب نصف قطر کی یہ مقدار ہے کل سطح کی اکثر واکبر ہے۔اسی قدر اختلاف جذب کو بس ہے۔
ثالثًا بالفرض سب ہی مقابل سہی عمود و منحرف کا فرق کدھر جائے گا۔یوں بھی اختلاف حاصل، بالجملہ یہ تقریر ان مقدمات پر مبنی ہے جو ضرور ہیات جدیدہ کے اصول مقررہ ہیں تو یہی اسے واجب التسلیم ہے اگرچہ حقیقۃً اعتراض سے خالی نہ یہ نہ وہ بلکہ ہم بتو فیقہ تعالیٰ فصل سوم میں روشن کریں گے کہ دونوں وجہیں باطل محض ہیں اور کیوں نہ ہو کہ اصول باطلہ ہیات جدیدہ پر مبنی ہیں پھر بھی یہ اس سے اسلم اور اصول جدیدہ پر تو نہایت محکم ہے۔
تنبیہ:اقول:وجہ یہ ہو خواہ وہ بہر طور زمین کی حرکت مستدیرہ حقیقۃً حرکت وضعیہ یعنی
عــــــہ۱:یہ وجہ شمس کو بھی شامل ہے کہ وہ بھی اور سیاروں کے جذب سے بچنے کو اپنے محور پر گھومتا ہے۔جغ ص ۱۲۱، ۱۲ منہ غفرلہ
عــــــہ۲:اس سے ایك تدقیق دقیق کی طرف اشارہ ہے جسے ہم نے اپنے رسالہ صبح میں روشن کیا، ۱۲ منہ غفرلہ)
(رسالہ صبح سے مراد ہے درء القبح عن درك وقت الصبح(زبان اردو فن توقیت)از اعلٰیحضرت عبدالنعیم عزیزی)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع