30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تقلیدًا معدل النہار دوائرۃ البروج کا نام سن لیا اور ادھر ان احکام کی تقلید کی جو اصول قدما پر مبنی تھے ادھر اپنے اصول کا گندہ بروزہ ملایا وہ ایك مہمل معجون باطل ہو کر رہ گیا۔یہ ہے ہیأت جدیدہ اور اس کی تحقیقات ندیدہ۔[1]
(۳۳)زمین وغیرہ ہر سیارے کا اپنے محور پر گھومنا اس سبب سے ہے کہ طبیعت میں ثابت ہوا ہے کہ ہر چیز بالطبع آفتاب سے نورو حرارت لینا چاہتا ہے اگر سیارے حرکت و ضعیہ نہ کریں جمیع اجزا کو نور و حرارت نہ پہنچے۔
اقول:یہ وجہ موجہ نہیں اولًا: اجزا میں جاذبہ و ماسکہ و نافرہ کے علاوہ ایك قوت شائقہ ماننی پڑے گی اور اس کا کوئی ثبوت نہیں۔
ثانیًا: زمین سے ذرے اور ریگ کے دانے خفیف پھونك سے جدا ہوجاتے ہیں ان کا یہ شوق طبعی کیا اتنی بھی قوت نہ رکھے گا کہ زمین سے بے جدا کیے ان کو گھمائے پھر ایك ایك ذرہ اور ریتے کا دانہ آفتاب میں اپنے نفس پر حرکت مستدیرہ کیوں نہیں کرتا اس کا جو حصہ مقابل آفتاب ہے سو برس گزر جائیں جب تك ہٹایا نہ جائے وہی مقابل رہتا ہے دوسرا حصہ کہ آفتاب سے حجاب میں ہے کیوں نہیں طلب حرارت و نور کے لیے آگے آتا۔
ثالثًا: زمین میں مسام اتنے ہیں کہ پوری دبائیں تو ایك انچ کی رہ جائے۔(۲۵)تو ظاہر ہے کہ اس کا کوئی جزو دوسرے سے متصل نہیں سب ایك دوسرے سے بہت فصل پر ہیں تو ہر جز اپنے نفس پر کیوں نہ گھوماکہ اس کے سب اطراف کو روشنی و گرمی پہنچتی صرف کرے کے محور پر گھومنے سے ہر جز پورے انتفاع سے محروم رہا۔
رابعًا: کرہ کی حرکت و ضعیہ سے سطح بالا ہی کے سب اجزاء فی الجملہ مستفید ہوں گے اندر کے جملہ اجزاء اب بھی محروم مطلق رہے تو جمیع اجزاء کا استفادہ کب ہوا اندر کے اجزاء طلب نور و حرارت کےلیے اوپر کیوں نہیں آتے۔اگر کہیے اوپر کے اجزاء جگہ روکے ہوئے ہیں۔
اقول:اولًا: غلط انچ بھر کی زمین جب پونے تین کھرب میل میں پھیلی ہوئی ہے اس میں کس قدر وسیع مسام ہوں گے۔(نمبر ۲۵)ان سوراخوں سے باہر کیوں نہیں آتے۔
ثانیًا: اوپر کے اجزاء میں جو آفتاب سے حجاب ہیں ان کی جگہ اگلے اجزا ء رکے ہوئے ہیں جو مقابل شمس ہیں، پھر حرکت وضعیہ کیونکر ہوتی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع