30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں، بالجملہ یہ تینوں نتیجے متفق علیہ ہیں اور خود جملہ کرات ارضی و سماوی کہ اب تك ہیات جدیدہ میں بنتے ہیں ان کی صحت پر شاہد عادل۔
فوائد: ا سطح مستوی میں کبھی دو دائرے تناصف نہیں کرسکتے کہ اس کے لیے اتحاد مرکز لازم اور وہ اس کے متقاطع دائروں میں محال(اقلیدس عــــــہ مقالہ ۳ شکل ۵)ب، دائرۃ البروج کی تعریف کہ حدائق میں کی باطل ہے کہ معدل سے مرکز بدل گیا۔ج اصول الہیات کی تعریف اس سے باطل تر ہے کہ مرکز بھی مختلف اور دائرے بھی چھوٹے بڑے، اور حق وہ ہے جو ہم نے کہا۔ء جب ان کے مرکز مختلف تو دونوں عظیمے کیسے ہوسکتے ہیں کہ عظیمہ کا مرکز نفس مرکز کرہ ہونا لازم(دیکھو مثلت کروی باب اول نمبر ۳)ہ حدائق نے سنی سنائی یا اسی ہوشیاری سے سب دوائر کو ایك مقعر مساوی پر لیا جس کا مرکز زمین ہے مگر بھلا کر تمہارے نزدیك تو وہ مدار زمین ہے یا مقعر فلك پر اس کا موازی، بہرحال اس کا مرکز مرکز مدار زمین مرکز زمین ہونا کیسی صریح جنون کی بات ہے دائرۃ البروج کو اپنے مرکز پر رکھ کر مقعر سماوی پر لیا ہے تو نہ وہ عظیمہ ہوسکتا ہے نہ معدل النہار اس کا تنا صف ممکن ا ور اگر اسے مرکز زمین کی طرف منتقل کرلیا تو دائرہ ہی وہ نہ رہا، نہ اس کی جگہ وہ رہی، نہ اب اس جدید دائرے اور معدل کا غایت بعد کہ میل کلی کہلاتا ہے دائرۃ البروج کا میل ہوسکتا ہے غرض تمام نظام ہیات تہ و بالا ہے تقلیدی باتیں کہتے چلے گئے اور خبر نہیں کہ ان کے اصول کی شامت لگ گئی۔
(۳۱)معدل النہار[1]دوائرۃ البروج دونوں دائرہ شخصیہ ہیں یعنی ہر ایك شخص واحد معین ہے کہ اختلاف لحاظ سے نہ اس کا محل بدلے نہ حال بخلاف دوائر نوعیہ کہ مختلف لحاظوں سے مختلف پڑتے ہیں جیسے دائرہ نصف النہار کہ ہر طول میں جدا ہے اور دائرہ افق کہ ہر عرض و ہر طول میں نیا ہے۔
عــــــہ:اقلیدس نے ایك شکل یہ رکھی چھٹی یہ کہ دو متماس دائروں کا ایك مرکز نہیں ہوسکتا اور ایك شق باقی رہی کہ دو متبائن غیر متوازی دائروں کا مرکز ایك ہو ممکن نہیں، مناسب یہ تھا کہ ایك شکل ان تینوں کو حاوی رکھی جاتی کہ دو غیر متوازی دائروں کا مرکز ایك ہونا ممکن خواہ متقاطع ہوں یا متماس کہ جب مرکز ایك ہے تو اس سے ہر دائرے تك ہر طرف بعد مساوی ہے اور مساویوں سے مساوی ساقط کرکے مساوی رہیں گے تو دونوں دائروں کا ہر طرف فصل مساوی ہوا تو متوازی ہوگئے اور فرض کئے تھے نامتوازی ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع