30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول:اولًا: یہ اقرار غنیمت ہے کہ بے آسمانی کرہ مانے حساب میں غلطی اور ہندسی اعمال میں خطا پڑتی ہے مگر یہ منطق نرالی ہے کہ وہی غلط ہے جس کے ماننےسے غلطیاں رفع ہوتی ہیں۔
ثانیًا: تمام عُقلا تو ان دوائر کو آسمانی کرہ کی محدب پر مانتے ہیں مگر یہ انہیں کیونکر راست آتا کہ فضائے نامحدود کا محدب کہاں، لہذا مقعرلیا، اب اس کو بھی تجدید درکار، وہ انتہائے نظر راصد سے لی۔تحدید تو اب بھی نہ ہوئی۔
راصدوں کی نظریں مختلف ہیں، سب سے تیز نظر کا لیا جائے تو آگے آلات ہیں اور ان کی قوتیں مختلف ہیں سب سے قوی قوت کا لیا جائے تو اس کی بھی حد نہیں روز نئے آلے ایجاد ہوتے ہیں نگاہ مجرد ہو یا مع آلہ اس کی اپنی انتہا اس سقفِ نیلی پر ہے جسے ہیات قدیمہ نہایت عالم نسیم کرہ بخار کہتی ہے اور جدیدہ ایك محض موہوم حد نظر اور حقیقت میں وہ اس آسمانِ دنیا یعنی فلك قمر کا مقعر ہے اس کے بعد روشن اجرام نہ ہوتے تو کچھ نظر نہ آتا اور روشن اجرام زاویہ بابصار بننے کے لائق بعد پر کتنے ہی دور لے جائیں نگاہ ان تك پہنچے گی تو واقعہ میں کوئی حد نہیں ہاں یہ کہے کہ کل جب تك یہ آلات نہ نکلے تھے جہاں تك نگاہ پہنچتی تھی اس بعد پر یہ مقعر و دائر بنتے تھے آلات بن کر ان سے زائد پر ہوئے اور جو آلہ قوی تر ایجاد ہوتا گیا یہ کرہ عالم اونچا ہوتا گیا اور آئندہ یوں ہی ہوتا رہے گا حد بندی کچھ نہیں کیونکہ حساب و ہندسہ کی غلطیاں رفع کرنے کو ایك غلط بات ماننا درکار ہے جیسی بھی ہو۔
ثالثًا: سماوی کرہ واقعی خواہ فرضی بالطبع ایسا ہونا لازم کہ تحت حقیقی سے اس تك بعد ہر جانب سے برابر ہوا اس کے کوئی معنی نہیں کہ یہ مقعر ایك طرف زیادہ اونچا ہے دوسری طرف کم، تو اسے مرکز شمس پر لینا تھا کہ وہی تمہارے نزدیك تحت حقیقی ہے۔۲۴ مگر مجبوری سب کچھ کراتی ہے وہ حسابی وہ ہندسی غلطیاں یونہی رفع ہوتی ہیں کہ باتباعِ قد ما مرکز عالم مرکز زمین پر لیا جائے۔
رابعًا: مرکز زمین ہو یا مرکز شمس یا کوئی ایك مرکز معین ہیات جدیدہ سب دوائر کو جن سے ہیات کانظام بنتا ہے ایك مرکز پر مان سکتی ہی نہیں جس کا بیان عنقریب آتا ہے اور بے ایك مرکز پر مانے ہیات کا نظام سب درہم و برہم، غرض بیچارے ہیں مشکل میں، دو ائر اور ان کے مسائل سب قدماء سے سیکھے اور انہیں کی طرح اُن سے بحث چاہتے ہیں مگر جدید مذہب والا بننے کو اصولِ معکوس لیے اب نہ وہ بنتے ہیں نہ یہ چھوٹتے ہیں، سانپ کے منہ کی چھچوندر ہیں۔آسمان گما کر سورج تھما کر جاذبیت کے مثل ہاتھوں سیارے گھما کر چار طرف ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور بنتی کچھ نہیں۔بعونہ تعالیٰ یہ سب بیان عیاں ہوجائے گا۔وباﷲ التوفیق۔
(۲۸)زمین کے خطِ استوا کو جب مقعر سماوی تك لے جائیں تو ایك دائرہ عظیمہ پیدا ہوگا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع