30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں کل جمع ۱۱۰۵۹۲ ذرّے اگر کہے اجزائے دیمقر اطیسیہ بال کی نوك سے چھوٹے ہیں تو وہ قطر میں ۶۰ نہیں بہت ہیں۔
اقول:ایسے کتنے بہت ہیں ایسے کتنے چھوٹے ہیں ذہنی تقسیم میں کلام نہیں جس پر کہیں روك نہیں، ایك خشخاش کے دانہ پر دائرہ عظیمہ لے کر اس کے ۳۶۰ درجے، ہر درجے کے ۶۰ دقیقے، ہر دقیقے کے ۶۰ ثانیے یوں ہی عاشرے اور عاشرے کے عاشرے تك جتنے چاہیے حساب کرلیجئے کیا یہ جس میں متمایز ہوسکتے ہیں۔یہ فلك شمس جسے تم مدار زمین کہتے ہو جس کا محیط دائرہ ۵۸ کروڑ میل سے زائد ہے۔ہم فصل اول میں ثابت کریں گے کہ اس کا عاشرہ ایك بال کی نوك کے سوا لاکھ حصوں سے ایك حصہ ہے۔تقسیم حسی میں کلام ہے جس کا انتفااجزاء دیمقراطیسیہ میں لیا گیاہے اور شك نہیں کہ بال کی نوك کا پچاسواں حصہ بھی حسًاجدانہیں ہوسکتا تو جز دیمقراطیسی زیادہ سے زیادہ ایك ذرے میں پچاس رکھ لیجئے۔نہ سہی ہر بال کی نوك میں ۱۳۲ فرض کیجئے اب تو کوئی گلہ نہ رہا اور کاسے میں آش بدستور، جب ہر ذرہ دوسرے سے ۱۳۲ میل کے فاصلے پر تھا اب ہر جز دوسرے سے میل میل بھر کے فاصلے پر ہوا، اب کیا اس کا قطر بال کی ۶۰ نوك سے بڑھ جاتا ہے، ایك نوك کے حصے کتنے ہی ٹھہرالو اب کیا زمین محسوس ہوسکتی۔اب کیا جسم و احد سمجھی جاتی، اب کیا اس پر کھڑا ہونا یا مکان ممکن ہوجاتا اب کیا ادھر کی آبادی ادھر نظر نہ آتی۔اب کیا چاند سورج یا کوئی تارا غروب کرسکتا، ہر دو جز میں ایك میل کا فاصلہ کیا کم ہے، ملاحظہ ہو یہ ہیں ان کی تحقیقاتِ جدیدہ اور یہ ہیں ان کے اتباع کی خوش اعتقادیاں کہ متبوع کیسی ہی بے عقلی کا ہذیان لکھ جائے یہ اٰمنّا کہنے کو موجود۔
اخیر میں پہلی گزارش تو یہ ہے کہ صحت کی تمامتر کوشش کے باوجود۔
(۲۶)آسمان کچھ نہیں فضائے خالی نامحدود و غیر متناہی ہے ایك پتھر[1] کہ پھینکا جائے اگر جذب زمین و مزاحمت ہوا وغیرہ نہ روکیں تو ہمیشہ یکساں رفتار سے چلا جائے کبھی نہ ٹھہرے زمین[2] کو کششِ آفتاب حائل نہ ہوتی تو ہمیشہ مساوی حرکت سے سیدھی ایك طرف چلی جاتی۔یہ ان کی خام خیالیاں ہیں۔آسمان پر ایمان ہر آسمانی کتاب ماننے والے پر لازم، اور بعد موجود قطعًا محدود لا متناہی ابعاد دلائل قاطعہ سے مردود۔
(۲۷)اگلے [3]تو غلطی میں پڑ کر وجودِ فلك کے قائل ہوئے اور ہم پچھلے(یعنی)ہیأت جدیدہ والے اگرچہ آسمان نہیں مانتے پھر بھی حسابی غلطیوں اور ہندسی خطاؤں کے رفع کے لیے ان تمام حرکات و دوائر کو اگلوں کی طرح ایك کرہ کے مقعر میں مانتے ہیں جو منتہائے نظر راصد پر ہے اور اس کا مرکز مرکزِ زمین۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع