30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہتے ہیں اور مریخ وغیرہ کا مدار مدارِ ارض سے باہر ہونے کے باعث اُن کو علویات، ظاہر ہے کہ یہ علو و سفل اضافی ہیں یعنی زہرہ و عطارد کا مدار اندر ہونے کے سبب تحت حقیقی سے بہ نسبت مدارارض نزدیك تر ہے اور مریخ وغیرہ کا دور تر کھل گیا کہ اُن کے نزدیك مرکز شمس ہی تحت حقیقی ہے یہ ہیأتِ جدیدہ اور اس کی تحقیقات ندیدہ تمام عقلائے عالم کے خلاف اس نمبر کا پورا مزہ فصل سوم میں کھلے گا ان شاء اﷲ تعالیٰ۔
(۲۵)خلا ممکن بلکہ واقع ہے بذریعہ آلہ کسی ظرف یا مکان کو ہوا سے بالکل خالی کرلیتے ہیں۔
اقول:یہ ان کا مزعوم جا بجا ہے، آلہ ایئر پمپ کا ذکر نمبر ۱۸ میں گزرا، فلسفہ قدیمہ خلا کو محال مانتا ہے۔ہمارے نزدیك وہ ممکن ہے مگر زرّا قات عــــــہ وسّراقات وغیرہا کی شہادت سے عادۃً محال اور ہوا بہت متخلخل جسم ہے کیا دلیل ہے کہ بذریعہ آلہ بالکل نکل جاتی ہے جزو قلیل متخلخل ہو کر سارے مکان کو بھردیتا ہے جو بوجہ قلت قابلِ احساس نہیں ہوتا۔نیوٹن [1]نے لکھا اگر زمین کو اتنا دباتے کہ مسام بالکل نہ رہتے تو انکی مساحت ایك انچ مکعب سے زیادہ نہ ہوتی جب یہ عظیم کرہ جس کی مساحت [2]دو کھرب انسٹھ ارب تینتالیس کروڑ چھیانوے لاکھ ساٹھ ہزا
عــــــہ:زرّاقہ پچکاری، سرّاقہ نیچورا۔اس کا تنگ منہ اور نیچے باریك سوراخ پانی بھر کر اوپر انگوٹھی سے دبالو پانی نیچی نہ گرے گا کہ ہوا کے جانے کی کوئی جگہ نہ ہوگی پانی گرے تو خلا لازم آئے، انگوٹھا اٹھا لو تو اب گرے گا کہ نیچے سے جتنا پانی نکلے گا اوپر سے اُتنی ہوا داخل ہوگی، ڈاٹ پچکاری کے نتھنے تك دبا کر پانی پر رکھ کر کھینچو پانی چڑھ آئے گا کہ ڈاٹ کے نکلنے سے جگہ خالی ہوگی اس خلا کو بھرے اور جب پانی بھر جائے اور ڈاٹ سے منہ بند ہو جھکانے سے پانی نہ گرے گا جیسے نیچوری سے نہ گرتا تھا کہ خلا نہ لازم آئے، مدت ہوئی میں ایك مشہور طبیب کے یہاں مدعو تھا گرمی کا موسم تھا حقّہ بھر کرآیا نَے خشك تھی دھواں نہ دیا میں نے اسے کہا تازہ کرو اب دھواں دینے لگا میں نے حکیم صاحب سے وجہ پوچھی کچھ نہ بتائی میں نے کہا جب نےَ خشك تھی مسام کھلے ہوئے تھے، پینے کے جذب سے جتنی ہوا نَے کے اندر سے منہ میں آتی اس کے قریب باہر کی ہوا مسام کے ذریعے سے نَے کے اندر آجاتی جگہ بھر جاتی اور دھوئیں تك جذب کا اثر نہ پہنچا تازہ کرنے سے مسام بند ہوگئے اندر کی ہوا پینے سے کھینچی اور باہر کی آنہ سکی لاجرم خلا بھرنے کو دھواں نے میں آیا ۱۲ منہ غفرلہ۔
[1] ط ص ۲۱۔۱۲۔
[2] ص ۲۶۶ میں اس سے بھی زائد بتائی دو کھرب ساٹھ ارب اکسٹھ کروڑ تیس لاکھ میل مگر ہم نے مقررات جدیدہ پر حساب کیا تو اُسی قدر آئی ہم نے اپنے رسالہ الھنئی النمیر فـــــــ میں ذکر کیا ہے کہ(باقی برصفحہ آئندہ)
ف:رسالہ الھنئی النمیر فی الماء المستدیر فتاوی رضویہ جلد ۲ مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور میں ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع