30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خامسًا: کبؤ مبادرت دونوں متلازم اور ایك علت کے معاذل ہیں جب کبوء منعکس ہوگا اور میل بڑھے گا ضرور خطِ استوا منطقہ سے دور ہوتا جائے گا اور تقاطع غرب سے شرق کو آئے گا کبھی ایسا سنا یا قدیم و جدید میں کسی کا ایسا زعم ہوا یا تحکمات بے سروپا ہی کا نام تحقیق جدید ہے۔
(۲۴)مرکز شمس تحت حقیقی ہے جو اس سے قریب ہے نیچے ہے اور بعید اوپر۔
اقول:یہ مضمون ہیاتِ جدیدہ سے بوجوہ ثابت:
اولًا: صاف تصریح کہ شمس[1]ہی ثقیل حقیقی ہے باقی سب اضافی، ہر ایك بقدر اپنے ثقل کے مرکز شمس سے قُرب چاہتا ہے اور اس سے زیادہ قرُب سے بھاگتا ہے مع اس اقرار[2]کے ثقل کا کام جانب زیریں کھینچنا ہے تو روشن ہوا کہ مرکز شمس ہی تحت حقیقی ہے۔
ثانیًا:ہماری طرف یہ بھی زہرہ و عطارد کو سفلیین اور مریخ و مافوقہ کو علویات کہتے ہیں ہمارے طور پر تو اس کی وجہ صحیح و ظاہر ہے کہ مرکز زمین تحت حقیقی ہے زہرہ عطارد اُس سے قریب ہیں اگر چہ اپنے بعد ابعد پر ہوں اور مریخ ومافوقہ بعید اگرچہ بعد اقرب پر ہوں لیکن ان کے طور پر یہ نہیں بنتی کہ ہیات جدیدہ کے زعم میں بارہا مریخ زمین سے قریب اور زہرہ و عطارد دور ہوتے ہیں زیجات سنویہ یعنی المکنون میں دیکھئے گا کہ جا بجا کتنے کتنے دن زمین سے بعد مریخ کے لوگار ثم میں عدد صحیح ۹ ہے کہ کسر محض ہوئی اور زہرہ و عطارد میں صفر کہ احاد صحاح کا مرتبہ ہوا۔سب میں زیادہ تفاوت کا مقام وہ ہے کہ دونوں شمس کے ساتھ قران اعلیٰ میں ہوں اور مریخ مقابلے میں

اس صورت پر ظاہر ہے کہ اس وقت مریخ زمین سے قریب ہوگا اور زہرہ و عطارد دور ہیات جدیدہ نے اس وقت زمین سے عطارد کا بعد اعظم ۱۳۵۶۳۱۰۴۹ تیرہ کروڑ میل سے زائد اور زہرہ کا ۱۵۹۵۵۱۴۳۶ سولہ کروڑ میل کے قریب اور مریخ کا بعد اقل ۲۶۳۸۸۹۸۵ کہ پونے تین کروڑ میل بھی نہیں تو اگر مرکز زمین تحت حقیقی ہو تو لازم کہ بارہا مریخ نیچا اور زہرہ و عطارد اوپر ہوں، حالانکہ ایسا نہیں، لاجرم مرکز شمس کو تحت حقیقی لیا کہ زہرہ وعطارد و ہمیشہ اس سے قریب ہیں اور مریخ بعید۔
ثالثًا: صاف تصریح[3]ہے کہ زہرہ و عطارد کا مدار مدارِ زمین کے اندر ہونے کے سبب ان کو سفلین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع