30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موافق ہی ہوں گے نہ کہ صد نقطہ خط استوا کے آگے بڑھنے میں کچھ رکاوٹ پیدا کرنا مبادرت کو غربی سے شرقی کرنا نہ چاہے گا کہ وہ منطقہ سے قریب ہوتا ہوا جتنا بھی بڑھے بہرحال مبادرت غربیہ ہوگی۔
سادسًا: فرض کیجئے کہ یہ نادر نہیں تو ہمیشہ کے لیے ہمیشہ عکس ہی لازم کہ نصف شمالی میں اُن کا میل دائما جنوبی ہو، اور جنوبی میں دائمًا شمالی، اور یہ قطعًا باطل۔
سابعًا: قرب قمر سے اس کی جاذبیت اقویٰ ہونے کا رَد ابحاث مَد کی وجہ چہارم میں گزرا۔
ثامنًا: مدارین پر عمل اقویٰ ہونا عجیب ہے یعنی غایت بعد پر جذب اقویٰ اور جتنا قرب ہوتا جائے اضعف۔
تاسعًا: حلقہ استوائی کا بوجہ ارتفاع اقرب ماننا بھی عجیب ہے ایسا کتنا فرق ارتفاع ہے قطب سے خط استوا تك تقریبًا[1] ۱۳ ہی میل کا تو فرق ہے اور مدار سے خطِ استوا تك ۳ ۲ درجے ۲۷ دقیقے ہیں کہ ۲ کروڑ ۳ ۸ لاکھ میل سے زیادہ ہوئے شمس جب مدارین میں ہوگا قریب کے مداروں کو کھینچے گا یا پونے تین کروڑ میل سے زائد بیچ میں چھوڑ کر صرف ۱۳ میل بلندی کو جا پکڑے گا۔
عاشرًا: اب واجب ہے کہ جب شمس مدار صیفی میں ہو تمام مدارات کہ اُس سے جانب جنوب ہیں شمالی ہوں خواہ جنوبی مع خطِ استوا سب کو جانبِ شمال کھینچے اور باقی تمام مدارات یعنی قطب شمالی تك انکے موازی دائروں کو جانب جنوب، یوں ہی جس مدار پر منتقل ہو اسے چھوڑ کر اس سے شمالیوں کو جنوب اور جنوبیوں کو شمال کو طرف جذب کرے یہاں تك کہ خط استوا پرآئے اب اسے چھوڑ کر تمام شمالیات کو جنوب اور جمیع جنوبیات کو شمال کی طرف لائے جب اس سے جنوب کو چلے سب شمالیات و خط استوا کو جانب جنوب کشش کرے باقی کو جانب شمال غرض نہ خط استوا بلکہ زمین کا ہر چھلا اس کے موازی ہے جانب شمس کھینچے مدار صیفی سے باہر جتنے چھلے ہیں سب ہمیشہ جنوب کو بڑھیں اور مدار شتوی سے جتنے باہر ہیں سب ہمیشہ شمال کو تو زمین قطبین پر سے روز بروز خالی ہوتی جائے اور مدارین کے اندر چھلے ہیں وہ ہمیشہ برودمات میں رہیں کبھی جنوب کو ہٹیں کبھی شمال کو، دیکھو کیا اچھی مبادرت اعتدالین بنی۔
حادی عشر: خط استوا پر فعل باطل ہونے کے کیا معنی، اب منطقہ کی طرف نہ کھینچے اپنی طرف تو کھینچے گا تو لازم کہ تقاطع کا نقطہ تقاطع چھوڑ کر نہ صرف آگے بڑھے بلکہ اونچا ہوجائے۔
ثانی عشر :یہ اپنی طرف کھینچتا خطِ استوا ہی پر نہیں بلکہ ہر مدار پر ہوگا دن کو ادھر کے نقطے کو اونچا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع