30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وجدان سے جانتا ہے کہ اسے اپنے سر پر ماشہ بھر بھی بوجھ نہیں معلوم ہوتا نہ کہ ۳۹۲ من،انسان تو انسان ہاتھی کی بھی جان نہ تھی کہ اتنا بوجھ سہارے اور سہارنا کیسا محسوس تك نہ ہو،اس کے دو جواب [1]دیتے ہیں اول یہ کہ آدمی کے اندر بھی ہوا ہے باہر کی ہوا انسان کو دباتی اور اندر کی ہوا ابھارتی ہے یوں مساوات رہتی ہے اور بوجھ محسوس نہیں ہوتا۔باہر کی ہوا نہ ہوتی تو اندر کی جسم کو چاك کرکے نکل جاتی،بیرونی ہوا کے دباؤ میں ضرر کی جگہ نفع دیا۔
اقول:اولًا: کہاں یہ جوفِ بشر کی دو چار ماشے ہوا اور کہاں وہ ۳۹۲ من پختہ کا انبار کچھ بھی عقل کی کہتے ہو،زمین کی نافریت اپنے تیرہ۱۳ لاکھ گناہ آفتاب کی جاذبیت پر غالب آتی ہے۔سب سیارے مل کر کہ چاند سے کروڑوں حصے زیادہ قوی ہوئے اسے کھینچتے ہیں اور وہ نہیں سرکتا۔چاند کا جذب [2]اپنے سے مہاسنکھوں زائد جذب زمین پر غالب آکر پانی بلکہ خود سارے کُرہ زمین کو کھینچ لے جاتا ہے،دو ماشے ہوا چار سو من ہوا کا بوجھ برابر کرتی ہے کوئی بات بھی ٹھکانی کی ہے۔
ثانیًا:وہ اپنی بوتل کہاں بھلائی،جب ہوا سے خالی کر اندر کا اُبھار گیا اور اوپر سے منوں کا بوجھ،بوتل ٹوٹ کیوں نہ گئی،تمہارے تولنے کو کیوں باقی رہی۔
ثالثًا: اندر کی ہوا کیا بیرونی ہوا کی غیر جنس ہے اس میں دبانا اس میں اُبھارنا کیوں ہے۔
رابعًا: جب ہوا ثقیل ہے اندر کی بھی ثقیل ہے بلکہ آمیزش رطوبات سے ثقیل تر،ثقیل اپنے سے ہلکے کو ابھارتا ہے جسم انسانی ہوا سے کہیں بھاری ہے اسے ابھارنا کیا معنی ! واجب تھا کہ اندر کی ہوا بھی جذب زمین سے متاثر ہو کر نیچے کو دباتی مگر اقرار کرتے ہو کہ اوپر کو ابھارتی ہے تو معلوم ہوا کہ جذبِ زمین بھی باطل اور ہوا کا ثقل بھی باطل،بلکہ وہ خفیف و طالب علو ہے۔
دوم یہ کہ ہوا کا یہ بوجھ اجزائے جسم پر مساوی تقسیم ہے لہذا محسوس نہیں ہوتا۔
اقول:اولًا: یہ عجیب منطق ہے کہ ایك طرف سے دباؤ تو بوجھ معلوم ہو اور سب طرف سے صد ہاان کے دباؤ میں پیسو تو رتی بھر بھی محسوس نہ ہو،ایك گولر کو صرف اوپر سے ہتھیلی رکھ کر دباؤ تو وہ پچك جائے گا اور مٹھی میں لے کر چاروں طرف سے دباؤ تو سرمہ ہوجائے گا۔
ثانیًا:مساوی تقسیم بھی غلط ہم نے اپنے محاسبات ہندسیہ میں ثابت کیا ہے کہ ہوا جسے کرہ بخار و عالم نسیم کہتے ہیں اس کا دل سر کی جانب صرف ۴۵ میل اور دہنے بائیں آگے پیچھے چھ سو میل کے قریب ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع