30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں شمال کو،پھر جتنا قمر مرتفع ہوتا شمالی کا جنوب جنوبی کا شمال کو مائل ہوجاتا۔جب نصف النہار پر پہنچتا شمالی کا ٹھیك جنوبی جنوبی کا ٹھیك شمالی ہوجاتا،جب غرب کی طرف چلتا دونوں جانب غرب متوجہ ہوتے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ مد [1]کی حرکت مغرب سے مشرق کو مشاہدہ ہوتی ہے اس کی توجیہ [2]یہ کی جاتی ہے کہ مدسیر قمر کا اتباع کرتا ہے۔
اقول:مجذوب کو موضع جاذب کا اتباع لازم ہے اس کی طرف کھینچے،نہ یہ کہ چال میں اس کی نقل کرے،قمر اپنی سیر خاص سے جس میں روبمشرق ہے دو گھنٹے میں کم و بیش ایك درجہ چلتا ہے اور اتنی ہی دیر میں زمیں تمہارے نزدیك ۳۰ درجے مشرق ہی کو چلتی ہیں تو ہر گھنٹے پر ساڑھے چودہ درجے مغرب کو پیچھے رہتا ہے تو مدکولازم کہ جانب جاذب یعنی مشرق سے مغرب کو جائے نہ کہ اس کی چال کی نقل اتارنے کو اسے پیچھ کرکے اپنا منہ بھی مشرق کو لے کر جتنا چلے جاذب سے دور پڑے۔
وجہ ہشتم:اقول: موسمِ سرما میں صبح کا مَد کیوں زیادہ بلند ہوتا ہے اور گرما میں شام کا،کیا سردی میں چاند صبح کو پانی سے زیادہ قریب ہوتا ہے شام کو دور ہوجاتا ہے،اور گرمی میں بالعکس۔
وجہ نہم:اقول: مَد کی چال تجددامثال سے ہے نہ یہ کہ وہی پانی جو یہاں اٹھا تھا کسی طرف منہ کرکے سطح آب کی سیر کرتا ہے اثر قمر سے سب اجزائے آب پر باری باری ہے تو سب متاثر ہوں گے نہ کہ ایك اثر لے کر دوڑتا پھرے باقی چپکے پڑے رہیں۔اس کی نظیر سایہ ہے جب آدمی چلتا ہی دیکھنے والے کو گمان ہوتا ہے۔کہ سایہ اس کے ساتھ چل رہا ہے۔ایسا نہیں بلکہ جب آدمی یہاں تھا،آفتاب یا چراغ سے یہ جگہ محجوب تھی۔اس پر سایہ تھا جب آگے بڑھا،یہ جگہ حجاب میں نہ رہی یہ سایہ معدوم ہوگیا اب اگلی جگہ حجاب میں ہے اس پر سایہ پیدا ہوا،اسی طرح ہر جز حرکت پر ایك سایہ معدوم اور دوسرا حادث ہوتا ہے۔سلسلہ پے درپے بلافصل ہونے سے گمان ہوتا ہے کہ وہی سایہ متحرك ہے یہی حال یہاں ہونا لازم تو اوقیانوس شمالی میں جہاں قمر پانی سے جنوب کو ہے ضرور ہے کہ پانی کا جنوبی حصہ پہلے اٹھے پھر جو اس سے شمالی ہے کہ اقرب فالاقرب کا سلسلہ بھی یہی ہے اور ہر قریب تر پر خطِ جذب بھی استقامت سے قریب ہے تو مد کی چال جنوب سے شمال کو ہو اور اسی دلیل سے اوقیا نوس جنوبی میں شمال سے جنوب کو،حالانکہ ہوتا عکس ہے۔شمالی [3]میں موج جنوب کو جاتی ہے جنوبی میں شمال کو۔
وجہ دہم: [4]مد کی چال بحراطلانتك یعنی اوقیانوس غربی میں فی ساعت سات۷۰۰سو میل ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع