30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پر ایك ہی رطل رہے گا تین ہزار پانچ سو ننانوے رطل اڑ جائیں گے وعلٰی ہذا القیاس ء زمین [1]پر خط استوا کے پاس شے کا وزن کم ہوگا اور جتنا قطر کی طرف ہٹو بڑھتا جائے گا کہ خطِ استواء کے پاس جاذبیت کم ہے اور قطب کے پاس زیادہ۔ولیم ہرشل [2]نے کہا نجیمات پر یعنی مریخ و مشتری کے درمیان آدمی ہو تو ساٹھ فٹ اونچا بے تکلف جست کرسکے۔
اقول:تو یورینس پر جا کر تو خاصا پکھیرو ہوجائے گا جدھر چاہے اڑتا پھرے گا پھر کہا اور ساٹھ فٹ بلندی سے انُ پر گرے تو اس سے زیادہ ضرر نہ دے جتنا ہاتھ پر بلندی سے زمین پر گرنا۔
اقول: تو نیپچون پر جا کر تو روئی کا گالا ہوجائے گا کہ ہزاروں گز بلندی سے سخت پتھر پر گرے کچھ ضرر نہ ہوگا۔یہ ہیں ان کی خیال بندیاں اور انہیں ایسا بیان کریں گے گویا عطاردو آفتاب پر کچھ رکھ کر تول لائے ہیں نجیمات پر بیٹھ کر کود آئے ہیں،ان تمام خرافات کا بھی ماحصل وہی ہے کہ جسم میں فی نفسہ کوئی وزن نہیں ورنہ ہر کرے ہر مقام ہر بعد پر محفوظ رہتا جاذبیت کی کمی بیشی سے صرف اس پر زیادت میں کمی بیشی ہوتی ظاہر ہے کہ جو کچھ بھی وزن مانو اس سے زیادہ بعد پر بقدر مربع بعد گھٹے گا اور بعید ہیئات [3]جدیدہ میں غیر محدود ہے تو کمی بھی غیر محدود ہے،پہاڑ کا وزن عــــــہ رائی کے دانے کا ہزاروں حصہ رہے گا پھر اس پر بھی نہ رکے گا تو کوئی وزن کہیں محفوظ نہیں جسے اصلی ٹھہرائیے مگر اس جری بہادر ط نے اسے اور بھی کھلے لفظوں میں کہہ دیا اس کی عبارت یہ ہے جس سبب سے کہ چیزیں زمین پر گر پڑتی ہیں اُسی سبب سے ان میں وزن بھی پیدا ہوتا ہے یعنی کشش ثقل ان کو بھاری کرتی ہے بوجھ اشیاء میں موافق مقدار کشش کے ہوگا۔یہ ہے فلسفہ جدیدہ اور اس کی تحقیقات ندیدہ کہ پہاڑ میں آپ کچھ وزن نہیں وہ اور رائی کا ایك دانہ ایك حالت میں ہیں۔
اقول:حقیقتِ امر اور اختلافِ جذب سے ان کے دھوکے کا کشف یہ ہے کہ ہر جسم ثقیل یقینًا اپنی حد ذات میں وزن رکھتا ہے۔ پہاڑ اور رائی ضرور مختلف ہیں،شیئ میں جتنا وزن ہو اس کے لائق دباؤ ڈالے گی پھر اگر اس کے ساتھ کوئی جذب بھی شریك کرو تو دباؤ بڑھ جائے گا اور جتنا جذب بڑھے اور بڑھے گا بیس سیر کا پتھر آدمی سر پر رکھے وہ دبائے گا اور اس میں رسیاں باندھ کر دو آدمی نیچے کو زور کریں،دباؤ بڑھے گا۔چار آدمی چاروں طرف سے کھینچیں اور بڑھے گا لیکن جذب کی کمی بیشی اصل وزن پر کچھ اثر نہ ڈالے گی جذب کم ہو
عــــــہ:اقول:بعد دیگرے سیّارہ دیگر کے جذب سے اور وزن ہلکا ہوگا زمین کے خلاف جہت کھینچا اور بفرض غلط ہو بھی تو کام نہ دے گا کہ وہ بھی عارضی ہوا کلام وزن اصلی میں ہے۔۱۲ منہ غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع