30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مساوی ہیں۔(مامونی)تو دونوں قوسیں مساوی ہیں۔(مقالہ ۳ شکل ۲۵)بالجملہ اس پر بے شمار استحالے ہیں۔
رابعًا: یہ ضرور ہے کہ مہندسین نہایت صغیر قوسوں میں اُن کے وتر اُن کی جگہ لے لیتے ہیں جیسے اعمال کسوف و خسوف میں،مگر اسے تو حکم عام دینا ہے،ہر جگہ یہ ٹٹو کیسے چلے گا،دیکھو نصف دو ۱۸۰ درجے محیط ہے اور اس کا وتر کہ قطر ہے صرف ۱۲۰ درجے وہ بھی قطریہ کہ محیطیہ کے ۱۵ ۱ عــــــہ۱ سے بھی کم ہوئے فرض کرو قوس ا ء ۶۰ درجے ہے تو درجات قطریہ سے ا ر سہم صرف ۳۰ ہے اور رء جیب تقریبًا ۵۲ عــــــہ۲ ا ء قوس تقریبًا ۶۳ عــــــہ۳ مجنون ہے جو ان سب کو مساوی کہے۔

خامسًا: تساوی قوتین پر شکل وہ نہ ہوگی بلکہ یہ اب دلیل واقعہ ہے ا کو مرکز مان کر بعد ب پر قوس ب ر کھینچی جس نے محیط کو ء پر قطع کیا اورقطر کو ر پر تو ا ء مسافت واثر دافعیت ہوئی اور ا ر اثر جاذبیت ا ب ا ر سہم قوس اء نہیں بلکہ اس کا سہم ا ح ہے بحکم شکل مذکور اقلیدس ا ح بحسب مربع ا ء بدلے گا نہ کہ جاذبیت ا ر۔
سادسًا: دعوٰی میں جاذبہ نافرہ دونوں تھیں اور بغرض باطل اس دلیل سے ثابت ہوا تو جاذبہ کا بحسب مربع مسافت بدلنا جسے بنادانی مربع سرعت کہا سرعت مسافت نہیں بلکہ مسافت مساویہ کو زمانہ اقل میں قطع کرنا نافرہ کے دعوے کو تساوی جاذبہ ونافرہ پر حوالہ کیا اور اسے خود شکل میں بگاڑ دیا کہ جاذبہ سہم رکھی اور دافعہ جیب،بلکہ وتر،بلکہ قوس،اہلِ انصاف دیکھیں یہ حالت ہے انکی اوہام پرستی کی،اپنے باطل خیالات کو کیسا زبردستی برہان ہندسی کا لباس پہنا کر پیش کرتے ہیں۔
(۱۴)ہر دائرے میں جاذبہ ہو یا نافرہ بحسب نصف قطر [1]مربع زمانہ دورہ ہے اس [2]سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آفتاب جو زمین کو کھینچتا ہے اور زمین قمر کو ان دونوں کششوں میں کیا نسبت ہے نصف قطر مدار قمر کو ایك فرض کریں تو نصف قطر مدار زمین ۴۰۰ ہوگا اور اس کی مدت دورہ ۳۲۵ء ۲۷ دن ہے اور اس کی
عــــــہ۱:یعنی ۱۱۴ درجے ۳۵ دقیقے ۲۹ ثانیے ۳۶ ثالثے ۴۷ رابعے ۱۲ منہ غفرلہ
عــــــہ۲:یعنی ۵۱ درجے ۵۷ دقیقے ۴۱ ثانیے ۲۹ ثالثے ۱۴ رابعے ۱۲ منہ غفرلہ
عــــــہ۳:یعنی ۶۲ درجے ۴۹ دقیقے ۵۴ ثا نیے ۴۰ ثالثے ۴۴ رابعے ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع