30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برابر ایك حصہ مادے کو زمین نے ایك قوت سے کھینچا اور دس حصے کو وہ چند قوت سے تو حاصل وہی رہا کہ ہر حصہ مادہ کے مقابل ایك قوت لہذا اثر میں اصلًا فرق نہ ہوتا مگر ہوتا ہے بھاری جسم جلد آتا ہے اور ہلکا دیر میں اس کا سبب بیچ میں ہوائے حائل کی مقاومت ہے بھاری جسم سے جلد مغلوب ہوجائے گی کم روکے گی جلد آئے گی،ہلکے سے دیر میں متاثر ہوگی۔زیادہ روکے گی دیر لگائے گا۔اس کا امتحان آلہ ایر پمپ سے ہوتا ہی جس کے ذریعہ ہوا برتن سے نکال لیتے ہیں۔اس وقت روپیہ اور روپے برابر کاغذ یا پر ایك ہی رفتار سے زمین پر پہنچتے ہیں یہ حاصل ہے اس کا جو چار صفحوں سے زائد میں لکھا۔
اقول:اولًا: اس سے بڑھ کر عاقل کون کہ لفظ کہے اور معنٰی نہ سمجھے جس میں وزن زیادہ ہے وہ مقاومت ہوا پر جلد غالب آتا ہے،زیادہ وزن کے کیا معنٰی یہی نا کہ وہ زیادہ جھکتا ہے،یہ اس کی اپنی ذات سے ہے تو اسی کا نام میل طبعی ہے جس کا ابھی تم نے انکار مطلق کیا اور اگر زمین اسے زیادہ جھکاتی ہے تو یہی تفاوت اثر جذب ہے اس پر زیادہ نہ ہوتا تو زیادہ کیوں جھکتا۔
ثانیًا: زیادتِ وزن کا اثر صرف یہی نہیں کہ مقاومت پر جلد غالب آئے بلکہ اس کا اصل اثر زیادہ جھکنا ہے۔،مقاومت پر جلد غلبہ بھی اسی زیادہ جھکنے سے پیدا ہوتا ہے اگر پہاڑ آکر معلق رہے نیچے نہ جھکے ہوا کو ذرہ بھر شق نہ کرے گا۔
تمہاری جہالت کہ تم نے فرع کو اصل سمجھا اور اصل کو یك لخت اڑا دیا۔مقاومت پر اثر ڈالنا زیادہ جھکنے پر موقوف تھا لیکن زیادہ جھکنا کسی مقاوم کے ہونے نہ ہونے پر موقوف نہیں وہ نفس زیادت وزن کا اثر ہے تو ہوا بالکل نکال لینے پر بھی یقینا رہے گا اور روپیہ ہی جلد پہنچے گا بلکہ ممکن کہ اب پہلے سے بھی زیادہ کہ اس وقت اس کی جھونك کو ہوا کی روك تھی اب وہ روك بھی نہیں۔اہل انصاف دیکھیں کیسی صریح باطل بات کہی اور مشاہدے کے سرتھوپ دی،یہ حالت ہے ان کے مشاہدات کی،یہ دیگ کا چاول یاد رہے کہ آئندہ کے اور خلافِ عقل دعوؤں کی بانگی ہے اور اس کا زیادہ مزہ فصل دوم میں کھلے گا ان شاء اﷲ تعالٰی، اور ہمارے نزدیك حقیقتِ امر یہ ہے کہ ہر ثقیل میں ذاتی ثقل او ر طبعی میل سفل ہے۔کہ بزیادت وزن زائد ہوتا ہے تو ہلکی خود ہی کم جھکے گی اگرچہ ہوا حائل نہ ہو،اور حائل ہوئی تو اسے شق بھی کم کرے گی تو بھاری چیز کے جلد آنے کا ایك عام سبب ہے اس میں میل فزوں ہونا خواہ کوئی حائل ہو یا نہ ہو،اور در صورت حیلولت زیادت وزن کے باعث حائل کو زیادہ شق کرنا تو بغرض غلط،ہوا برتن سے بالکل نکال بھی لی جائے روپیہ پھر بھی پَر سے یقینًا جلد آئے گا اگرچہ چند انگل کی مسافت میں تمہیں فر ق محسوس نہ ہو۔
(۱۳)جب [1]کوئی جسم دائرے میں دائر ہو تو مرکز سے نافرہ اور مرکز کی طرف جاذبہ(ازانجاکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع