30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثانیًا تنبیہ اقول: ملاحظہ نمبر ۲ سے یہاں ایك اور سخت اعتراض ہے نمبر ۱۵ میں آتا ہے کہ تمہارے نزدیك اختلاف وزن اختلاف جذب پر متفرع ہے اور ہم ثابت کردیں گے کہ ہیاتِ جدیدہ کو اس اقرار پر قائم رہنا لازم ورنہ ساری ہیات باطل ہو جائے گی۔اب یہاں اختلافِ جذب اختلاف وزن پر متفرع کیا کہ دس سیر کا جسم دس گنی طاقت سے کھنچے گا۔یہ کھلا دور ہے اگر کہیے اختلاف وزن پر نہیں اختلاف مادے پر متفرع کیا اختلاف وزن سے مثال دی ہے کہ ہماری جذب سے پہلے جذب زمین نے وزن پیدا کردیا ہے۔
اقول:مختلف قوتِ جذب چاہنا اختلافِ وزن سے ہوتا ہے مادے میں جب پیش از جذب کچھ وزن ہی نہیں تو بے وزن چیز قلیل ہو یا کثیر مختلف قوت چاہے گی۔اگر کہے اختلاف مادے سے ماسکہ مختلف ہوگی لہذا مختلف جذب درکار ہوگا۔
اقول:ماسکہ بحسبِ وزن ہی تو ہے۔پھر اختلاف وزن ہی پر بنا آگئی اور دور قائم رہا مگر صاف انصاف یہ کہ نمبر ۲ نیوٹن کے قول نمبر ۸ پر مبنی اور ہیات جدیدہ کا بیخکن ہے جسے وہ کسی طرح تسلیم نہیں کرسکتی بلکہ جا بجا اس کا رد کرتی ہے جس کا بیان نمبر ۱۵ میں آتا ہے۔ہیات جدیدہ کے طور پر صحیح یہ ہے کہ ماسکہ بربنائے وزن نہیں بلکہ نفس مادے کی طبیعت میں حرکت سے انکار ہے تو جس میں مادہ زیادہ ماسکہ زائد تو انکار افزون تو اس کے جذب کو قوت زیادہ درکار،یہ تقریر یاد رکھیے اور اب یہ اعتراض یکسر اٹھ گیا۔
تنبیہ:ہیئاتِ جدیدہ نے اس تناقض کی بنا پر ایك اور قاعدہ اس سے بھی زیادہ باطل تراشا جسے اپنے مشاہدے سے ثابت بتاتی ہے بھلا مشاہدے سے زیادہ اور کیا درکار ہے۔وہ اس سے اگلا قاعدہ ہے۔
تنبیہ ضروری:اقول: یہ دونوں قاعدے متناقض صحیح مگر ان سے اتنا کھل گیا کہ جذب کی تبدیلی تین ہی وجہ سے ہے مادہ جذب مادہ مجذوب بعد،جن میں قابل قبول صرف دو ہیں،مادہ مجذوب اس نمبر ۱۱ نے طنبور میں نغمہ اور شطرنج میں بغلہ بڑھایا۔ بہرحال مجذوب واحد پر بعد واحد سے جاذب واحد کا جذب ہمیشہ یکساں رہے گا،وہ جو نمبر ۱۳ میں آتا ہے کہ جاذبیت بحسب سرعت بدلتی ہے،نمبر ۷ میں گزرا کہ اصل میں سرعت بحسب جاذبیت بدلتی ہے۔
(۱۲)جذب [1]اگرچہ باختلاف مادہ مجذوب مختلف ہوتا ہے مگر جاذب واحد مثلًا زمین کے جذب کا اثر تمام مجذوبات صغیرو کبیر پر یکساں ہے،سب ہلکے بھاری اجسام کہ زمین سے برابر فاصلے پر ہوں ایك ہی رفتار سے ایك ہی آن میں زمین پر گرتے کہ اُن میں آپ تو کوئی میل ہے نہیں جذب سے گرتے اور اس کا اثر سب پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع