30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حصوں کی تقسیم غیر متناہی یہ حصہ معین ہوا وہ کیوں نہ ہوا ترجیح بلا مرجح ہے لہذا واجب کہ طبعی جاذب ہمیشہ اپنی پوری قوت سے عمل کرتا ہے۔یہ جلیل فائدہ یاد رکھنے کا ہے کہ بعونہ تعالٰی بہت کام دے گا۔
تنبیہ:اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ مثلًا زمین کا پورا کرہ اپنی ساری قوت سے ہر شے کو کھینچتا ہے بلکہ مجذوب کے مقابل جتنا ٹکڑا ہے جیسے اس کپڑے کو شرق تا غرب پھیلی ہوئی ساری دھوپ نے نہ سکھایا تھا بلکہ اُسی قدر نے جو اس کے محاذی تھی۔
(۱۱)جذب [1]بحسب مادہ مجذوب ہے،دس جز کا جسم جتنی طاقت سے کھینچے گا سو۱۰۰ جز کا اس کی دو چند سے۔اگر تم ایك سیر اوردوسرے دس۱۰ سیر کے جسم کو برابر عرصے میں کھنیچنا چاہو تو کیا دس سیر کو دس گنے زور سے نہ کھینچو گے۔
اقول۲۵:یہ بجائے خود ہی صحیح رکھتا تھا جب اس میں مجذوب پر نظر ہو اور اس کے دو محل ہوتے اول طلب کا تبدل یعنی ہر مجذوب اپنے مادے اور بعد کے لائق طاقت مانگے گا جاذب میں اتنی قوت ہے کھینچ لے گا ورنہ نہیں،یوں یہ دونوں نسبتیں مستقیمہ ہیں کہ مجذوب میں مادہ خواہ بعد جو کچھ بھی زائد ہو اتنی ہی طاقت چاہے گا۔
دوم مجذوب پر اثر کا تبّدل۔یوں یہ دونوں نسبتیں معکوس ہیں کہ مجذوب میں مادہ خواہ بعد جس قدر زائد اُسی قدر اس پر جذب کا اثر کم اور جتنا مادہ یا بعد کم اتنا ہی زائد۔مگر اس صحیح بات کو غلط استعمال کیا ہے اس میں جاذب پر نظر رکھی کہ وہ مادہ وزن مجذوب کے لائق اس پر اپنی قوت صرف کرتا ہے یہ بھی صاحب ارادہ طاقت کے اعتبار سے صحیح تھا مگر اُسے قوت طبیعہ پر ڈھالاکہ مجذوب میں جتنا مادہ ہوگا زمین اسے اتنی ہی طاقت سے کھینچے گی۔اب یہ محض باطل ہوگیا۔اولًا: اس کا بطلان ابھی سن چکے اور انسان سے تمثیل جہالت،انسان ذی شعور ہے زمین صاحب ادراك نہیں کہ مجذوب کو دیکھے او راس کی حالت جانچے اور اس کے لائق قوت کا اندازہ کرے تاکہ اتنی ہی قوت اس پر خرچ کرے۔
تنبیہ:اگر یہ ہے تو وہ پہلا قاعدہ جس پر ساری ہیأتِ جدیدہ کا اجماع اور سردار فلسفہ جدیدہ نیوٹن کا اختراع ہے صاف غلط ہوجائے گا جب زمین مجذوب کے مادوں کا ادراك کرتی ہے اور ان کے قابل اپنی قوت کے حصے چھانٹتی ہے تو کیوں نہ اس کے بعد کا ادراك کرے گی اور ہر بعُد کے لائق اپنی قوت کا حصہ چھانٹے گی تو ہر بُعد پر جذب یکساں رہے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع