30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جاذب میں جتنا مادہ زائد اُتنا ہی اس کا جذب قوی۔یہ سیدھی نسبت ہوئی اور بعد مجذوب کا مجذور،جتنا زائد اتنا ہی اس کا جذب ضعیف گز بھر بعد پر جو جذب ہے دو گز پر اس کا چہارم ہوگا۔دس گز پر اس کا سوواں حصہ یہ نسبت معکوس ہوئی کہ کم پر زائد،زائد پر کم۔
نتیجہ:(ا)کثیف ترکہ جذب اشد۔
(ب)قریب تر پر اثر اکثر۔
(ج)خطِ عمود پر عمل اقویز
تنبیہ جلیل:اقول ۲۴:یہ قاعدہ دلیل روشن ہے کہ طبعی قوت جذب ہر شے کی طرف یکساں متوجہ ہوتی ہے مجذوب کی حالت دیکھ کر اس پر اپنی پوری یا آدھی یا جتنی قوت اس کے مناسب جانے صرف کرنا اس کا کام ہے جو شعور و ارادہ رکھے طبعی قوت ادراك نہیں رکھتی کہ مجذوب کی حالت جانچے اور اس کے لائق اپنے کل یا حصے سے کام لے وہ تو ایك ودیعت رکھی قوت بے ارادہ و بے ادراك ہے نہ اس میں جدا جدا حصے ہیں شے واحد ہے اور اس کا فعل واحد ہے اس کا کام اپنا عمل کرنا ہے مقابل کوئی شے کیسی ہی ہو،بھیگا ہوا کپڑا دھوپ میں پھیلا دو جس کے ایك حصے میں خفیف نم ہو اور دوسرا حصہ خوب تر۔حرارت کا کام جذب رطوبات ہے،اس وقت کی دھوپ میں جتنی حرارت ہے وہ دونوں حصوں پر ایك سی متوجہ ہوگی۔ولہذا نم کا حصہ جلد خشك ہوجائے گا۔اور دوسرا دیر میں کہ اتنی حرارت اس خفیف کو جلد جذب کرسکتی تھی اور اگر یہ ہوتا کہ طبعی قوت بھی مقابل کی حالت دیکھ کر اسی کے لائق اپنے حصے سے اس پر کام لیتی تو واجب تھا کہ نم بھی اتنی ہی دیر میں سوکھتی جتنی میں وہ گہری تری کہ ہر ایك پر اسی کے لائق جذب آتا،نم پر کم اور تری پر زائد،حالانکہ ہر گز ایسا نہیں بلکہ دھوپ اپنی قوتِ جذب کا پورا عمل دونوں پر کرتی ہے،ولہذا کم کو جلد جذب کرلیتی ہے یوں ہی مقناطیس لوہے کے ذروں کو ریزوں سے جلد جذب کرے گا اگر ہر ایك کے لائق جذب کرتا تو جس قوت سے ریزوں کو کھینچا تھا عام ازیں کہ کل قوت تھی یا بعض جو نسبت ذروں کو ان ریزوں سے ہے اسی نسبت کے حصہ قوت سے ذروں کو کھینچتا دونوں برابر آتے نہیں نہیں بلکہ قطعًا سب کو اپنی پوری قوت سے کھینچا جس نے ہلکے پر زیادہ عمل کیا،یوں ہی بعد کے بڑھنے سے جذب کا ضعیف ہوتا جانا قطعًا اسی بنا پر ہے کہ وہی قوت واحدہ ہر جگہ عمل کررہی ہے،ظاہر کہ قریب پر اس کا عمل قوی ہوگا اور جتنا بعد بڑھے گا گھٹتا جائے گا اور اگر ہر بعد کے لائق مختلف حصے کام کرتے تو ہر گز بعد بڑھنے سے جذب میں ضعف نہ آتا جب تك ساری طاقت ختم نہ ہوچکتی کہ ہر حصے بعد پر طبیعت اپنی قوت کے حصے پڑھاتی جاتی اور نسبت یکساں رہتی ہاں جب آگے کوئی حصہ نہ رہتا تو اب بعد بڑھنے سے گھٹتی کہ اب عمل کرنے کی یہی قوت واحدہ معینہ رہ گئی بالجملہ بعد بڑھنے سے ضعف آنے کو لازم ہے کہ ہر جگہ ایك ہی قوت معینہ عامل ہو اور وہ کوئی حصہ نہیں ہوسکتی کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع