30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شاخسانہ بڑھایا کہ فرض کرو وقت پیدائش زمین خلا میں پھینکی گئی تھی کوئی شے حائل نہ ہوتی تو ہمیشہ ادھر ہی کو چلی جاتی راستے میں آفتاب ملا اور اس نے کھینچ تان شروع کی۔
اقول ۱۱:واقعیات کا کام فرضیات سے نہیں چلتا،مدعی کا مطلب شاید اور ممکن سے نہیں نکلتا یہ لوگ طریقہ استدلال سے محض نا بلد ہیں،اگر کوئی شے مشاہدہ یا دلیل سے ثابت ہو اور اس کے لیے ایك سبب متعین مگر اس میں کچھ اشکال ہے جو چند طریقوں سے دفع ہوسکتا ہے۔اور ان میں کوئی طریقہ معلوم الوقوع نہیں۔وہاں احتمال کی گنجائش ہے کہ جب فہم متحقق اور اس کا یہ سبب متعین تو اشکال واقع میں یقینًا مندفع تو یہ کہنا کافی کہ شاید یہ طریقہ ہو لیکن نا ثابت بات کے ثابت کرنے میں فرض و احتمال کا اصلًا محل نہیں کہ یوں تو ہمارے اس فرض کی تابع ہوئی یوں فرض کریں تو ہوسکے نہ کریں نہ ہوسکے اس سے مدعی کے لیے وہی کافی مانے گا،جو مجنون ہے۔پھر اگر شے ثابت و متحقق ہے اور یہ سب متعین نہیں تو دفع اشکال پر بنائے احتمال ایك مجنونانہ خیال، اور اگر سرے سے شیئ ہی ثابت نہیں،نہ اس کے لیے یہ سبب متعین،پھر اس میں یہ اشکال تو کسی احتمال سے اس کا علاج کرکے شے اور سبب دونوں ثابت مان لینا۔دوہرا جنون اور پوراضلال۔پھر اگر علاج کے بعد بھی بات نہ بنے جیسا کہ یہاں ہے جب تو جنونوں کی گنتی ہی نہ رہی۔یہ نکتہ خوب یاد رکھنے کا ہے کہ بعض جگہ مخالف دھوکا نہ دے سکے۔
(۶)ہر مدار [1]میں جاذبہ و نافرہ دونوں برابر رہتی ہیں،ورنہ جاذبہ غالب ہو تو مثلًا زمین شمس سے جا ملے،نافرہ غالب ہو تو خطِ مماس پر سیدھی چلی جائے دورہ کا انتظام نہ رہے۔
اقول۱۲:بتاتے یہ ہیں اور خود ہی اس کے خلا ف کہتے ہیں اور حقیقتًا تناقض پر مجبور ہیں جس کا بیان فصل اوّل سے بعونہ تعالٰی ظاہر ہوگا۔
(۷)نافرہ [2]بمقدار جذب ہے اور سُرعت حرکت بمقدار نافرہ،جذب جتنا قوی ہوگا نافرہ زیادہ ہوگی کہ اس کی مقاومت کرے اور نافرہ جتنی بڑھے گی چال کا تیز ہونا ظاہر ہے کہ وہ نتیجہ نفرت ہے و لہذا سیارہ آفتاب سے جتنا بعید ہے اتنا ہی اپنے مدار میں آہستہ حرکت کرتا ہے۔سب سے قریب عطارد ہے کہ ایك گھنٹہ میں ایك لاکھ پانچہزار تین سو تیس میل عــــــہ۳ چلتا ہے اور سب سے دور نیپچون ایك گھنٹہ میں گیارہ ہزار نو سو اٹھاون میل۔
اقول۱۳:یہ قرین قیاس ہے،اور وہ جو نمبر ۱۳ میں آتا ہی کہ جاذبہ و نافرہ بحسب سرعت بدلتی ہیں معکوس گوئی پر مبنی ہونا ضرور نہیں بلکہ مقصود و نسبت بتانا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع