30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنبیہ:یہاں اُن لوگوں کا کلام مضطرب ہے عام طور پر اس قوت کو نافرہ عن المرکز کہا۔ص ۶۶ کی تقریر میں مرکز دائرہ ہی سے تنفر لیا مگر جا بجا جاذب مثلًا شمس سے تنفر رکھا،اور ص ۱۸ میں شمس ہی کو وہ مرکز بتایا۔
اقول۹:اُن کے طور پر حقیقت امر یہی چاہیے اس لیے کہ جسم بوجہ ماسکہ اثر جذب سے انکا ر کرے گا تو جاذب سے تنفر ہوگا۔اور انہیں دو کے اجتماع سے اس کے گرد دورہ کرے گا۔جس کا بیان نمبر آئندہ میں ہے جب تك دورہ نہ کیا تھا مرکز تھا ہی کہاں جس سے تنفر ہوتا،وہ تو اس کے دورے کے بعد مشخص ہوگا مگر ہم ان لوگوں کے اضطراب سخن کے سبب فصل اول میں مرکز و شمس دونوں پر کلام کریں گے۔
(۵)انہیں [1]جاذبہ و نافرہ کے اجتماع سے حرکتِ دوریہ پیدا ہوتی ہے تمام سیّاروں کی گردش شمس کی جاذبہ اور اپنی ہاربہ کے سبب ہے۔فرض کرو زمین یا کوئی سیارہ نقطہ ا پر ہے اور آفتاب ج پر شمس کی جاذبہ اسے ج کی طرف کھینچتی ہے اور نافرہ کا قاعدہ ہے کہ خط مماس۔ [2]پر لے جانا چاہتی ہے یعنی اس خط پر کہ خط جاذبہ پر عمود ہو جیسے ا ج پر اب دونوں [3]اثروں کی کشا کش کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زمین نہ ب کی طرف جاسکتی ہے نہ ج کی جانب بلکہ دونوں کی بیچ میں ہو کر ء پر نکلتی ہے یہاں بھی وہی دونوں اثر ہیں جاذبہ ء سے ج کی طرف کھینچتی ہے اور نافرہ ہ کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔

لہذا زمین دونوں کے بیچ میں ہو کر ر کی طرف بڑھتی ہے اسی طرح دورہ پیدا ہوتا ہے۔یہ مدار جو اس حرکت سے بنا بظاہر مثل دائرہ خط واحد معلوم ہوتا ہے اور حقیقۃً [4]ایك لہردار خط ہے جو بکثرت نہایت چھوٹے چھوٹے مستقیم خطوں سے مرکب ہوا ہے جن میں ہر خط گویا ایك نہایت چھوٹی شکل متوازی الاضلاع کاقطر ہے۔
اقول۱۰:یہ جو یہاں ہے کہ نافرہ سے دورہ پیدا ہوتا ہے یہی ان کے طور پر قرین قیاس ہے اور وہ جو اُن کا زبان زد ہے کہ دورے سے نافرہ پیدا ہوتی ہے بے معنی ہے مگر ہیاتِ جدیدہ الٹی کہنے کی عادی ہے جس کا ذکر تذ ییل فصل سوم میں ہوگا ان شاء اﷲ تعالٰی۔
تنبیہ:یہ جو یہاں مذکور ہوا کہ جاذبہ و نافرہ مل کر دورہ بناتی ہیں یہی ہیات جدیدہ کا مزعوم ہے۔تمام مقامات پر انہیں کا چرچا انہیں کی دھوم ہے ط(ص۹۳)پر بھی یہی مرقوم ہے ص ۵۶ پر اس نے ایك
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع