30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دفع ہی ہوا،اگرچہ پتھر پہلے سے زیادہ انسان سے قریب ہوگیا کہ اب ضلع قائمہ اج وتر سے چھوٹی ہے پھر یہ دونوں باعتبار اتصال و انفصال زمین دو قسم میں رافعہ کہ حرکت میں زمین سے بلند ہی رکھے۔
ملصقہ:مثلًا پتھر کو زمین سے ملا ملا اپنی طرف لاؤ یا آگے سرکاؤ اور باعتبار نقص و کمال دو قسم ہیں،
منھیہ:کہ متحرك کو منتہائے مقصد تك پہنچائے۔
قاصرہ:کہ کمی رکھے۔
اور باعتبار وحدت و تعدد خط حرکت دو قسم ہیں۔مثبتہ کہ ایك ہی خط پر رکھے،ناقلہ کہ حرکت کا خط بدل دے مثلًا اس شکل میں پتھر ا سے ج کی طرف پھینکا جب ب پر پہنچا لکڑی مار کر ہ کی طرف پھیر دیا یہ دافعہ ناقلہ ہوئی۔اس حرکت میں جب د تك پہنچا ر کی طرف کھینچ لیا یہ جاذبہ ناقلہ ہوئی،اور اگر ج کی طرف پھینك کر ب سے ا کی طرف کھینچ لیا تو ب تك دافعہ مثبتہ تھی کہ اسی خط پر لیے جاتی تھی(ب)سے واپسی میں جاذبہ مثبتہ ہوئی کہ اسی خط پر لائی۔

یہ کل ۱۳ قسمیں ہیں ان میں سے پتھر گرد سرگھمانے میں جاذبہ کا تو کچھ کام نہیں کہ اپنی سمت پر لانا مقصود نہیں ہوتا بلکہ مضر مقصود ہے باقی سات عــــــہ میں سے چار قوتیں یہاں کام کرتی ہیں حاصرہ اور تین دافعہ یعنی منہیہ رافعہ ناقلہ پتھر کو پورا دور پھینکو کہ رسی خوب تن جائے یہ منہیہ ہوئی،ہاتھ اٹھائے رکھو کہ زمین پر گرنے نہ پائے،یہ رافعہ ہوئی ہاتھ گرد سر پھراتے جاؤ کہ خط حرکت ہر وقت بدلے،یہ ناقلہ ہوئی یہ قوتیں ہر وقت برقرار رہیں کہ نہ رسی میں جھول آنے پائے،نہ زمین کی طرف لائے نہ ایك سمت کھینچ کر رك جائے،پھر یہ دافعہ کہ یہاں عمل کررہی ہے اس کا کام خط مستقیم پر حرکت دینا ہے تو دفع اول سے اسی سمت کو جاتا اور ہر نقل سے اس کی سیدھی سمت لیتا لیکن رسی جسے منہیہ تانے اور رافعہ اٹھائے اور ناقلہ بدل رہی ہے۔کسی وقت اپنی مقدار سے آگے بڑھنے نہیں دیتی ناچار ہر دفع و نقل اسی حد تك محدودرہتے ہیں اور انسان کہ یہاں مثل مرکز ہے ہر جانب اس سے فاصلہ اسی قدر رہتا ہے یہ حاصرہ ہوئی جس کا کام رسی کی بندش سے لیا گیا اس نے شکل دائر پیدا کردی اسے جاذب سمجھنا جیسا کہ نصرانی بیروتی سے نمبر ۱۳ میں آتا ہے،جہالت و نافہمی ہے،یہاں جاذبہ کو اصلًا دخل نہیں،نہ پتھر میں کوئی نافرہ ہے بلکہ حاصرہ و دافعہ کام کررہی ہے جتنے زور سے گھماؤ گے اتنی ہی قوت کا دفع ہوگا پتھر اتنی ہی طاقت سے چھوٹتا گمان کیا جائے گا حالانکہ یہ نہ اس کا تقاضا ہے نہ اس کا زو ربلکہ تمہارے دفع کی قوت ہے جسے نافہمی سے پتھر کی نافریت سمجھ رہے ہو۔
عــــــہ۱:ایك حاصرہ تھی اور چھ چھ جاذبہ و دافعہ،جاذبہ کی چھ نکل کر سات رہیں ۱۲ منہ غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع