30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زمین تھی،اُس کا جذب خیال میں آیا اوپر دیکھا تو سیب شاخ سے بھاگتا پایایوں نافرہ کا ذہن لڑایا حالانکہ نیچے لانے کو ان میں ایك کافی ہے دوکس لیے۔حدائق النجوم۔ [1]میں کہا برابر سطح پر گولی پھینکیں تو بالطبع خطِ مستقیم پر جاتی ہے یہ نافرہ ہے۔
اقول۵:پھینکیں میں اس کا جواب ہے آہستہ رکھ دیں کہ جنبش نہ ہو تو بال بھر نہ سِرکے گی۔ہاں سطح پوری لیول میں نہ ہو تو ڈھال کی طرف ڈھلے گی۔پھر کہاکنکیا میں پتھر باندھ کر اڑائیں سیدھا زمین پر آئے گا۔یہ نافرہ ہے۔
اقول۶:وہی بات آگئی جو ہم نے ان کی دانش پر گمان کی تھی کہ نیچے دیکھا تو جذب سمجھے اوپر نگاہ اٹھی تو اسے بھول گئے فرار پر قرار ہوا۔
(۴)جب [2]کوئی جسم کسی دائرے پر حرکت کرے اس میں مرکز سے نفرت ہوتی ہے۔پتھر رسی میں باندھ کر اپنے گرد گھماؤ وہ چھوٹنا چاہے گا اور جتنے زور سےگھماؤ گے زیادہ زور کرے گا اگر چھٹ گیا تو سیدھا چلا جائے گا اور جس قدر قوت سے گھمایا تھا اتنی دور جا کر گرے گا۔یہ مرکز سے پتھر کی نافریت ہے۔
اقول ۷:نافریت بے دلیل اور پتھر کی تمثیل،نری علیل،پتھر کو انسان یا مرکز سے نفرت نہ رغبت جانب خلاف جو اس کا زور دیکھتے ہو تمہاری دافعہ کا اثر ہے نہ کہ پتھر کی نفرت،تحقیق مقام کے لیے ہم ان قوتوں کی قسمیں استخراج کریں جو باعتبار حرکت کسی جسم پر قاسر کا اثر ڈالتی ہیں۔
فاقول۸:وہ تقسیم اول میں دو ہیں،محرکہ کہ حرکت پیدا کرے اور حاصرہ کہ حرکت کو بڑھنے نہ دے مثلًا ڈھلکتے ہوئے پتھر کو ہاتھ سے روك لو۔پھر محرکہ دو قسم ہے۔
جاذبہ:کہ متحرك کو قاسر کی سمت پر لائے،جیسے پتھر کو اپنی طرف پھینکے خواہ اس میں قاسر سے دور کرنا ہو کہ ظاہر ہے یا قریب کرنا،مثلًا اس شکل میں
ا
مقام انسان ہے،ج پتھر کا موضع۔آدمی نے لکڑی مار کر پتھر کو ج سے ب پر پھینکا تو یہ جذب نہیں کہ انسان کی سمت خط ا ج تھا اس پر لاتا تو جذب ہوتا،وہ خط ب ج پر گیا کہ سمِت غیر ہے لہذا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع