30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ چھ کروڑ چاند سے بھی لاکھوں حصے بڑا ہے اس پر تو چار کے اجتماع سے وہ ظلم ہوتا تھا۔قمر بیچارے کی کیا ہستی یہ اس کھینچ تان میں پرزے پرزے ہوجانا تھا۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس پر حرف آنا درکنا ر اس کی منضبط چال میں اصلًا فرق نہیں آنا۔تو منجم کے اوہام اور جاذبیت کے تخیلات سب باطل ہیں۔
(۱۱)اس کے بعد بفضلہ تعالٰی جاذبیت کے ردنافریت کے رد حرکت زمین کے رد میں اور مضامین نفیسہ کہ آج تك کسی کتاب میں نہ ملیں گے۔خیال میں آئے اُن کا بیان موجب طول تھا لہذا انہیں ان شاء اﷲ العزیز ایك مستقل رسالہ میں تحریر کریں گے۔ یہاں بقیہ کلام منجم کی طرف متوجہ ہوں۔آفتاب کا کلف جسے داغ کہا بارہا نظر آیا۔۱۷ دسمبروالا اگر ہو تو انہیں میں کا ایك ہوگا جو بارہاگزرچکے۔
(ا)قدیم زمانے میں شیز نامی ایك عیسائی راہب نے اپنے رئیس سے کہا میں نے سطح آب پر ایك داغ دیکھا اس نے اعتبار نہ کیا اور کہا میں نے اول تاآخر ارسطوکی کتابیں پڑھیں ان میں کہیں داغ شمس کا ذکر نہیں۔
(ب)علامہ قطب الدین شیرازی نے تحفہ شاہیہ میں بعض قدماء سے نقل کیا کہ صفحہ شمس پر مرکز سے کچھ اوپر محور قمر کی مانند ایك سیاہ نقطہ ہے۔ظاہر ہے کہ یہ نقطہ کہ مہندس نے محض نظر سے دیکھا کتنا بڑا ہوگا۔کم از کم اس کا قطر۲۲۵۲۰ میل ہوگا کما یعلم ممّا سیاتی(جیسا کہ معلوم ہوجائے گا اس دلیل سے جو عنقریب آرہی ہے،ت)
(ج)ابن ماجہ اندلسی نے طلوع کے وقت روئے شمس پر دو سیاہ نقطے دیکھے جن کو زہرہ وعطارد گمان کیا۔
(د)ہر شل دوم نے ایك داغ دیکھا جس کی مساحت تین ارب اٹھتّر کروڑ میل بتائی۔
اقول:یعنی اگر وہ بشکل دائرہ تھا تو اس کا قطر۶۹۳۷۵ میل۔
(ہ)یورپ کے ایك اور مہندس نے ایك اور داغ دیکھا جس کا قطر ایك لاکھ چالیس ہزار میل حساب کیا۔
اقول:یعنی اگر دائرہ تھا تو اس کی مساحت پندرہ ارب انتالیس کروڑ اڑتیس لاکھ میل۔
(اگلا صفحہ ملاحظہ ہو)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع