30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرلے اور عین شباب اثر جذب کے وقت سُست پڑجائے اور ادھر ایك اُدھر ۱۲ لاکھ سے زائد پر غلبہ و مغلوبیت کا دورہ پورا نصف نصف القسام پائے۔
ثالثًا خاص انہیں نقطوں کا تعین اور ہر سال انہیں پر غلبہ و مغلوبیت کی کیا وجہ ہے بخلاف ہمارے اصول کے کہ زمین ساکن اور آفتاب عــــــہ اس کے گرد ایك ایسے دائرے پر متحرك جس کا مرکز مرکزِ عالم سے۔
عــــــہ: تنبیہ ضروری:آفتاب کو مرکز ساکن اور زمین کو اُس کے گرددائر ماننا تو صراحۃً آیاتِ قرآنیہ کا صاف انکار ہے ہی ہیأت یونان کا مزعوم کو آفتاب مرکز زمین کے گرد دائر تو ہے مگر نہ خود بلکہ حرکتِ فلك سے،آفتاب کی حرکت عرضیہ ہے جیسے جالس سفینہ کی،یہ بھی ظاہر قرآنِ کریم کے خلاف ہے بلکہ خود آفتاب متحرك ہے آسمان میں تیرتا ہے جس طرح دریا میں مچھلی،قال اﷲ تعالٰی:
|
" وَکُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسْبَحُوۡنَ ﴿۴۰﴾"[1] |
اور چاند سورج ایك ایك گھیرے میں تَیررہے ہیں۔(ت) |
افقہ الصحابہ بعد الخلفاء الاربعہ سیدنا عبداﷲ بن مسعود صاحب سِّررسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کے حضور کعب کا قول مذکور ہوا کہ آسمان گھومتا ہے دونوں حضرات نے بالاتفاق فرمایا۔
|
کذب کعب " اِنَّ اللہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ۬ۚ"[2] زاد ابن مسعود:وکفٰی بہازولا ان تدور [3] رواہ عنہ سعید بن منصور و عبد بن حمید وابن جریر و ابن المنذرو عن حذیفۃ عبد بن حمید۔ |
کعب نے غلط کہا اﷲ تعالٰی فرماتا ہے بے شك اﷲ تعالٰی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ سرکیں نہیں۔ ابن مسعود نے اتنا زیادہ کیا کہ گھومنا اس کے زوال کے لیے کافی ہے اس کو عبداﷲ بن مسعود سے سعید بن منصور،عبدبن حمید،ابن جریر اور ابن منذر نے روایت کیا،جب کہ حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے عبدبن حمید نے روایت کیا۔(ت) |
اس آیت میں اگرچہ تاویل ہوسکے،صحابہ کرام خصوصًا ایسے اجلہ اعلم بمعانی القرآن ہیں اور انکا اتباع واجب ۱۲۔منہ مدظلہ العالی۔
[1] القرآن الکریم ۳۶/ ۴۰
[2] جامع البیان(التفسیر الطبری)تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱،داراحیاء الثراث العربی بیروت ۲۲/ ۱۷۰،الدرالمنثور تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱،داراحیاء الثراث العربی بیروت ۷/ ۳۲
[3] جامع البیان(التفسیر الطبری)تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱،داراحیاء الثراث العربی بیروت ۲۲/ ۱۷۱،الدرالمنثور تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱،داراحیاء الثراث العربی بیروت ۷/ ۳۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع