30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو یہ پانچ ہی مل کر اسے پاش پاش کردیں گے۔
(۶)عطارد تو سب میں چھوٹا اور اس کے حساب سے باقی ۱۳ہی درجے کے فاصلہ میں ہیں تو ۲۶کا آدھا ہے تو یہ تین عظیم ہاتھی مع یورنیس اس چھوٹی سی چڑیاکے ریزہ ریزہ کردینے کو بہت ہیں۔منجم نے اسی مضمون میں کہا کہ دو سیارے ملے ہوئے کافی ہیں ایك چھوٹا داغ شمس میں پیدا کرنے اور ایك چھوٹا طوفان برپا کرنے میں اور تین اُن میں سے بڑا طوفان اور بڑا داغ اور چار فی الحقیقۃ ایك بہت بڑا طوفان اور بہت بڑا داغ جب آفتاب میں تین اور چار کا یہ عمل ہے تو بے بیچارے عطارد و مریخ چار اور پانچ کے آگے کیا حقیقت رکھتے ہیں اور زحل پر اکٹھے چھ جمع ہیں تو جو نسبت ان کو آفتاب سے ہے اسی نسبت سے اُن پر اثر زیادہ ہونا لازم واجب تھا کہ کھینچنے والوں سے چمٹ جائیں لیکن ان میں نافریت بھی رکھی ہے وہ انہیں تمرد پر لائے گی جس کا صاف نتیجہ ان کا ریزہ ریزہ ہو کر جواذب میں گم جانا۔جیسا کہ ہمیشہ مشہود ہے کہ کمزور چیز نہایت قوی قوت سے کھینچی جائے۔اگر دوسری طرف اس کا تعلق ضعیف ہے کھینچ آئے گی ورنہ ٹکڑے ہوجائے گی۔یہ سب اگر نہ ہوگاتو کیوں؟حالانکہ آفتاب پر اثر ضرب شدید کا مقتضی یہی ہے اور ہوگا تو غنیمت ہے کہ آفتاب کی جان چھوٹی وہ آپس میں کٹ مرکر فنا ہوں گے،نہ آفتاب کے اس طرف ۶ رہیں گے نہ اس کے زخم آئے گا۔بالجملہ پیشگوئی محض باطل و پا در ہوا ہے۔غیب کا علم اﷲ عزوجل کو ہے،پھر اس کی عطا سے اس کے حبیب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو ہے۔ا ﷲ تعالٰی اپنے خلق میں جو چاہے کرے۔اگر اتفاقًا بمشیتِ الہٰی معاذ اﷲ ان میں سے بعض یافرض کیجئے کہ سب باتیں واقع ہوجائیں جب بھی پیشگوئی قطعًا یقینی جھوٹی ہے کہ وہ جن اوضاع کواکب پر مبنی ہیں وہ اوضاع فرضی ہیں اور اگر بفرض غلط واقعی بھی ہوئے تو نتائج جن اصول پر مبنی ہیں وہ اصول محض بے اصل من گڑھت ہیں جن کا مہمل و بے اثر ہونا خود اسی اجتماع نے روشن کردیا،اگر جاذبیت صحیح ہے تو یہ اجتماع نہ چاہیے اور اگر یہ اجتماع قائم ہے تو جاذبیت کا اثر غلط ہے،بہرحال پیشگوئی باطل۔واﷲ یقول الحق وھویھدی السبیل۔
(۷)جاذبیت پر ایك سہل سوال اوج وحضیض شمس سے ہوتا ہے جس کا ہر سال مشاہدہ ہے نقطہ اوج پر کہ اُس کا وقت تقریبًا سوم جولائی ہے،آفتاب زمین سے غایت بعُد پر ہوتا ہے اورنقطہ حضیض پر کہ تقریبًا سوم جنوری ہے غایت قرب پر یہ تفاوت اکتیس لاکھ میل سے زائد ہے کہ تفتیش جدید میں بعد اوسط نوکروڑ انتیس لاکھ میل بتایا گیا ہے اور ہم نے حساب کیامابین المرکز ین دو درجے پینتالیس ثانیے یعنی ۵۲۱۲۔ء ۲ ہے۔تو بُعد ابعد ۹۴۴۵۸۰۲۶میل ہوا اور بعد اقرب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع