30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زمین ہفتوں میں اعتدال پر آئے گی۔
محسنِ ملت اعلٰیحضرت علیہ الرحمۃ نے اس کا جواب حسب ذیل ارشاد فرمایا۔
یہ سب اوہامِ باطلہ وہوساتِ عاطلہ ہیں،مسلمانوں کو ان کی طرف اصلًا التفات جائز نہیں۔
(۱)منجم نے ان کی بناکواکب کے طول وسطی پر رکھی جسے ہیأت جدیدہ میں طول بفرض مرکزیت شمس کہتے ہیں،اس میں وہ چھ کواکب باہم ۲۶ درجے ۳ ۲ دقیقے کے فصل میں ہوں گے مگر یہ فرض خود فرض باطل ومطرود اور قرآن عظیم کے ارشادات سے مردود ہے،نہ شمس مرکز ہے نہ کواکب اُس کے گرد متحرك بلکہ زمین کا مرکز ثقل مرکز عالم ہے اور سب کواکب اور خود دشمس اُس کے گرددائر۔اﷲ تعالٰی عزوجل فرماتا ہے:
|
" اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ﴿۪۵﴾"[1] |
سورج اور چاند کی چال حساب سے ہے۔ |
اور فرماتا ہے:
|
" وَ الشَّمْسُ تَجْرِیۡ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا ؕ ذٰلِکَ تَقْدِیۡرُ الْعَزِیۡزِ الْعَلِیۡمِ ﴿ؕ۳۸﴾ "[2] |
سورج چلتا ہے اپنے ایك ٹھہراؤ کے لیے،یہ سادھا ہوا ہے زبردست علم والے کا۔ |
اور فرماتا ہے:
|
" کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسْبَحُوۡنَ ﴿۴۰﴾"[3] |
چاند سورج ایك ایك گھیرے میں تیررہے ہیں۔ |
اور فرماتا ہے:
|
" وَسَخَّرَلَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَیۡنِ "[4] |
تمہارے لیے چاند اور سورج مسخر کیے کہ دونوں باقاعدہ چل رہے ہیں۔ |
اور سورہ رعد میں فرماتا ہے:
|
" وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ؕ کُلٌّ یَّجْرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ"[5] |
اﷲ نے مسخر فرمائے چاندسورج،ہر ایك ٹھہرائے وقت تك چل رہا ہے۔ |
بعینہ اسی طرح سورہ لقمان،سورہ ملک،سورہ زمر میں فرمایا۔اس پر جو جاہلانہ اختراع پیش کرے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع