30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تفسیر ابن عباس میں دونوں جگہ ہے:(مھدا)فراشا[1] (یعنی بچھونا۔ت)نیز یہی مضمون قرآن عظیم کی بہت آیات میں ارشاد ہے،فرماتاہے:
|
" اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِہٰدًا ۙ﴿۶﴾"[2] |
کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا،(ت) |
فرماتاہے:
|
" وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰہَا فَنِعْمَ الْمٰہِدُوۡنَ ﴿۴۸﴾"[3] |
اور زمین کوہم نے فرش کیا تو ہم کیا ہی اچھا بچھانے والے ہیں(ت) |
فرماتا ہے:
|
" وَ اللہُ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا ﴿ۙ۱۹﴾"[4] |
اور اﷲ تعالٰی نے تمہارےلیے زمین کو بچھونا بنایا۔(ت) |
فرماتا ہے:
|
" الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرْضَ فِرٰشًا"[5] |
جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔(ت) |
اور قرآن کی بہتر تفسیر وہ ہے کہ خود قرآن کریم فرمائے۔
(ب)بچے ہی کا مہد ہو تو وہ کیا اس کے بچھونے کو نہیں کہتے،جلالین سورہ زخرف میں ہے: مھادًا فراشًا کا لمھد للصبی۔[6] (مھادًا) بچھونا جیسے بچوں کے لیے گہوارہ(ت)
لاجرم حضرت شیخ سعدی و شاہ ولی اﷲ نے مھدًا کا ترجمہ طٰہ میں فرش اور زخرف میں بساط ہی کیا اور شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر نے دونوں جگہ بچھونا۔
(ج)گہوارہ ہی لو تو اس سے تشبیہ آرام میں ہوگی نہ کہ حرکت میں،ظاہر کہ زمین اگر بفرض باطل جنبش بھی کرتی تو اس سے نہ ساکنوں کو نیند آتی ہے نہ گرمی کے وقت ہوا لاتی تو گہوارہ سے اسے بحیثیت جنبش مشابہت نہیں تو بحیثیت آرام و راحت ہے۔خود گہوارہ سے اصل مقصد یہی ہے،نہ کہ ہلانا،تووجہِ شبہ وہی ہے نہ یہ۔لاجرم اسی کو مفسرین نے اختیار کیا۔
(د)لطف یہ کہ علماء نے اس تشبیہ مہد سے بھی زمین کا سکون ہی ثابت کیا بالکل نقیض اس کا جو آپ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع