30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو ناممکن ہے کہ زمین گردِ شمس دورہ کرے اور آفتاب مدارِ زمین کے جوف میں ہو تو بحمداﷲ تعالٰی آیاتِ متکاثرہ و احادیث متواترہ و اجماع امت طاہرہ سے واضح ہوا کہ زمین کی حرکت محوری و مداری دونوں باطل ہیں وﷲ الحمد،زیادہ سے زیادہ مخالف یہاں یہ کہہ سکتا ہے کہ غروب تو حقیقہً شمس کے لیے ہے کہ وہ غیبت ہے اور آفتاب ہی اس حرکت زمین کے باعث نگاہ سے غائب ہوتا ہے اور زوال حقیقتہً زمین کے لیے ہے کہ یہ ہٹتی ہے نہ کہ آفتاب اور طلوع حقیقۃً کسی کے لیے نہیں کہ طلوع صعود اور اوپر چڑھنا ہے۔
حدیث میں ہے: لکل حد مطلع[1]۔ (ہر حد کے لیے چڑھنے کی جگہ ہے۔ت)
نہایہ و درنثیر و مجمع البحارو قاموس میں ہے: ای مصعد یصعد الیہ من عرفۃ علمیہ[2]۔یعنی چڑھنے کی جگہ جس کی طرف وہ اپنی علمی معرفت کے ساتھ چڑھتا ہے۔(ت)
نیز ثلاثۃ اصول تاج العروس میں ہے:مطلع الجبل مصعدہ[3] (پہاڑ کا مطلع اس پر چڑھنے کی بلند جگہ ہے۔ت)
حدیث میں ہے:طلع المنبر۔[4] (منبر پر چڑھا۔ت)
مجمع البحار میں ہے: ای علاہ [5](یعنی اس کے اوپر چڑھا ت)
ظاہر ہے کہ زمین آفتاب پر نہیں چڑھتی،اور مخالف کے نزدیك آفتاب بھی اس وقت زمین پر نہ چڑھا کہ طلوع اس کی حرکت سے نہیں لاجرم طلوع سرے سے باطل محض ہے مگر مکان زمین کو حرکت میں محسوس نہیں ہوتی۔انہیں وہم گزرتا ہے کہ آفتاب چلتا،ڈھلتا ہے لہذا طلوع و زوال الشمس کہتے ہیں۔یہ کوئی کافر کہہ سکے۔مسلمان کیونکر وہ روا رکھ سکے کہ جاہلانہ وہم جو لوگوں کو گزرتا ہے قرآن عظیم بھی معاذ اﷲ اسی وہم پر چلا ہے اور واقع کے خلاف طلوع و زوال کو آفتاب کی طرف نسبت فرمادیا ہے۔
[1] اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب تلاوۃ القرآن الباب الرابع دارالفکربیروت ۴/ ۵۲۷
[2] القاموس المحیط باب العین فصل الطاء مصطفٰی البابی مصر ۳/ ۶۱
[3] تاج العروس شرح القاموس باب العین فصل الطاء داراحیاء الثرات العربی بیروت ۵/ ۴۴۲
[4] مجمع بحار الانوار باب الطاء مع اللام مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۳/ ۴۵۹
[5] مجمع بحار الانوار باب الطاء مع اللام مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۳/ ۴۵۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع