30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی قراء ت ہے لا مستقرلھا یعنی سورج چلتا ہے کسی وقت اسے قرار نہیں۔اوپر گزرا کہ قرار کا مقابل زوال ہے،جب کسی وقت قرار نہیں تو ہر وقت زوال ہے اگرچہ تسمیہ میں ایك زوال معین کا نام زوال رکھا،غرض کلام اس میں ہے کہ احادیث مرفوعہ سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و آثار صحابہ کرام و اجماع اہل اسلام نے آفتاب کا اپنے مدار میں رہ کر ایك جگہ سے سرکنے کو زوال کہا اگر زمین متحرك ہوتی تو یقینًا ایك جگہ سے اس کا سرکنا ہی زوال ہوتا اگر چہ مدار سے باہر نہ جاتی لیکن قرآن عظیم نے صاف ارشاد میں اُس کے زوال کا انکار فرمایا ہے تو قطعًا واجب کہ زمین اصلًا متحرك نہ ہو۔
(ب)بلکہ خود یہی زوال کہ قرآن و حدیث و فقہ و زبان جملہ مسلمین سب میں مذکور قائلانِ دورہ زمین اسے زمین ہی کا زوال کہیں گے کہ وہ حرکتِ یومیہ اُسی کی جانب منسوب کرتے ہیں۔یعنی آفتاب یہ حرکت نہیں کرتا بلکہ زمین اپنے محور پر گھومتی ہے جب وہ حصّہ جس پر ہم ہیں گھوم کر آفتاب سے آڑ میں ہوگیا رات ہوئی۔جب گھوم کر آفتاب کے سامنے آیا کہتے ہیں آفتاب نے طلوع کیا۔حالانکہ زمین یعنی اُس حصہ ارض نے جانبِ شمس رُخ کیا جب اتنا گھوما کہ آفتاب ہمارے سروں کے محاذی ہوا یعنی ہمارا دائرہ نصف النہار مرکز شمس کے مقابل آیا دوپہر ہوگیا جب زمین یہاں سے آگے بڑھی دوپہر ڈھل گیا کہتے ہیں آفتاب کو زوال ہوا حالانکہ زمین کو ہوا،یہ اُن کا مذہب ہے اور صراحۃً قرآن عظیم کا مکذب و مکذب ہے۔مسلمین تو مسلمین،بیروت وغیرہ کے سفہائے قائلان حرکت ارض بھی جن کی زبان عربی ہے اس وقت کو وقت زوال اور دھوپ گھڑی کو مزولہ کہتے ہیں یعنی زوال پہچاننے کا آلہ۔اور اگر اُن سے کہے کیا شمس زوال کرتا ہے؟ کہیں گے:نہیں بلکہ زمین،حالانکہ وہ مدار سے باہر نہ گئی۔تو آپ کی تاویل موافقین و مخالفین کسی کو بھی مقبول نہیں۔
(ج)اوروں سے کیا کام،آپ تو بفضلہ تعالٰی مسلمان ہیں،ابتدائے وقت ظہر زوال سے جانتے ہیں،کیا ہزار بار نہ کہا ہوگا کہ زوالِ کا وقت ہے،زوال ہونے کو ہے،زوال ہوگیا۔کاہے سے زوال ہوا،دائرہ نصف النہار سے۔کس کا زوال ہوا آپ کے نزدیك زمین کا کہ اُسی کی حرکت محوری سے ہوا۔حالانکہ اﷲ تعالٰی عزوجل فرماتا ہے کہ زمین کو زوال نہیں،اب خود مان کر کہ زمین متحرك ہو تو روزانہ اپنے مدار کے اندر ہی رہ کر اسے زوال ہوتا ہے دنیا سے،زوال کفار پیش کرنے کا کیا موقع رہا،انصاف شرط ہے اور قرآن عظیم کے ارشاد پر ایمان لازم وباﷲ التوفیق۔
(د)یہاں سے بحمدہٖ تعالٰی حضرت معلّم التحیات رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اُس ارشاد کی خوب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع